تفہیماتِ ربانیّہ — Page 291
ہوا۔لہذا احکام کا میعاد مقررہ گزر جانے اور اس تمام عرصہ میں (جو ۲۵ فروری ۱ شاید کو ختم ہوتا ہے ) مخالفین کی طرف سے تفسیر سورۂ فاتحہ عربی شائع نہ ہونے پر یہ لکھنا کہ:- الہام مَنَعَهُ مَانِعُ مِنَ السَّمَاءِ پورا ہو گیا بالکل درست اور بیجا تھا۔یہ وہ الہام تھا جوقبل اشاعت انجاز مسیح ہوا اور اس کتاب کے صفحہ ۶۶ پر درج ہوا۔پھر دوسری مرتبہ جبکہ پیر گولڑوی نے مشہور کیا کہ وہ اس کتاب یعنی اعجاز مسیح کی مثل یا اس کا جواب شائع کرے گا، خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دوبارہ انہی الفاظ میں الہام فرمایا اور اطلاع دی :- مَنَعَهُ مَانِعَ مِنَ السَّمَاءِ کہ وہ اعجاز امسیح کی مثل یا اس کا جواب واقعی ( یعنی مشتمل برتفسیر وعر بیت ) ہرگز نہیں لا سکے گا۔واقعات نے بتادیا کہ گولڑوی صاحب صرف چند اوراق بزبان اُردو اور وہ بھی محمد حسن متوفی کے نوٹوں کے سرقہ موسومہ سیف چشتیائی شائع کر سکے۔اعجاز مسیح کی مثل یا اس جیسی فصیح عربی وتفسیر فاتحہ سے کلیہ عاجز آگئے اور اس طرح انہوں نے پھر تازہ الہام مَنَعَهُ مَانِعُ مِنَ السَّمَاءِ کی صداقت پر مہر کر دی۔اس دوسری دفعہ کے الہام کا ذکر حقیقۃ الوحی میں ہے۔پس الحکم اور حقیقۃ الوحی کی عبارتوں میں ہرگز کوئی اختلاف نہیں کیونکہ دونوں جگہ علیحدہ علیحدہ موقع کے الہام اور اس کے پورا ہونے کا ذکر ہے۔فَلَا اشْكَالَ فِيهِ۔اعجاز اسیح کے متعلق جو کچھ معترض پٹیالوی نے لکھا تھا اس کا مفصل جواب دینے کے بعد اب ہم اعجاز احمدی کا ذکر کرتے ہیں۔اعجاز احمدی یہ وہ انعامی اعجازی تصنیف ہے جس کی مثل لانے سے عاجزی نے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کو خصوصاً اور باقی علماء کوعموما ذلیل ورسوا کر دیا۔موضع مدضلع امرتسر میں ۲۹-۳۰اکتوبر ۱۹۰۴ء کو حضرت لے دوبارہ انہی الفاظ میں الہام ہونا کوئی قابل اعتراض امر نہیں۔سورۃ الرحمن میں آیت فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ بار بار آتی ہے اور سورۃ بقرہ اور سورۃ لقمان کے شروع میں بھی تطابق لفظی ہے۔(ابوالعطاء ) (291