تفہیماتِ ربانیّہ — Page 24
آول - علامہ عبدالعزیز لکھتے ہیں :- " وَقَدْ اِدَّعَى بَعْضُ الْكَذَابِيْنَ النُّبُوَّةَ كَمُسَيْلَمَةَ الْيَمَامِي وَالْأَسْوَدِ الْعَنَسِي وَسَجَّاحِ الْكَاهِنَةِ فَقُتِلَ بَعْضُهُمْ وَتَابَ بَعْضُهُمْ وَ بِالْجُمْلَةِ لَمْ يَنْتَظِمُ أَمْرُ الْكَاذِبِ فِي النُّبُوَّةِ إِلَّا أَيَّامًا مَّعْدُودَة “ (نبراس مطبوعہ میرٹھ صفحہ ۴۴۴) ترجمہ۔بے شک بعض لوگوں نے نبوت کے جھوٹے دعوے کئے جیسا کہ مسیلمہ، اسود عنسی اور سجاح ہیں۔لیکن پھر بعض ان میں سے قتل کئے گئے اور بعض نے تو بہ کر لی۔بہر حال کسی جھوٹے مدعی کی بات چند دن سے زیادہ نہیں رہی۔“ وم -حضرت امام ابن القیم تحریر فرماتے ہیں :- نَحْنُ لَا نُنْكِرُ أَنَّ كَثِيرًا مِّنَ الْكَذَابِيْنَ قَامَ فِي الْوُجُودِ وَظَهَرَتْ لَهُ شَوْكَةٌ وَلكِنْ لَمْ يَتِمَّ لَهُ أَمْرُهُ وَلَمْ تُطِلْ مُدَّتُهُ بَلْ سَلَّطَ عَلَيْهِ رُسُلَهُ وَاتَّبَاعَهُمْ فَمَحَقُوا اثْرَهُ وَقَطَعُوا دَابِرَهُ وَاسْتَأَصَلُوا شَافَتَهُ هذه سُنتُه فِى عِبَادِهِ مُنْذُ قَامَتِ الدُّنْيَا وَإِلَى أَنْ تَرِثَ الْأَرْضَ وَمَنْ عَلَيْهَا۔“ ترجمہ - ہم اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ بہت سے کذاب اور جھوٹے مدعی پیدا ہوئے اور ان کی ابتداء شوکت بھی ظاہر ہوئی لیکن وہ اپنے مقصد کو پانہ سکے اور نہ ہی ان کی مدت لمبی ہوئی۔بلکہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کے اتباع نے بہت جلد ان کی بیخ کنی کر کے ان کو بے نام ونشان کر دیا اور ان کی گردن توڑ دی۔ابتداء دُنیا سے اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں میں یہی سنت رہی اور تا قیامت رہے گی۔“ (زاد المعاد جلد اوّل صفحه ۵۰۰) لمبی مدت کی تشریح اسی جگہ ”ثلاثًا وَعِشْرِينَ سَنَةٌ “ (۲۳ سال) کے الفاظ میں موجود ہے۔سوم - مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے لکھا ہے :- 24