تفہیماتِ ربانیّہ — Page 251
مسیح موعود علیہ السلام نے مجز کی فضیلت کا زمانہ اور پھر اس کی وجہ بتادی ہے۔پھر جب خدا تعالیٰ نے آپ کو بتادیا کہ آپ افضل ہیں آپ نے افضلیت کا دعوئی فرمایا۔گویا پہلے حضور نے اپنی طرف سے توقف فرما یا مگر جب بارش کی طرح وحی نازل ہوئی تو آپ نے فَاصْدَعُ بِمَا تُؤْمَرُ کے مطابق اس کا اعلان فرما دیا۔ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ من قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى فَقَدْ كَذَبَ جو یونس سے افضل اور بہتر ہونے کا دعوی کرے وہ جھوٹا ہے مگر جب خدا تعالیٰ کی وحی نے آپ کو خاتم النبیین قرار دیا تو آپ نے فرمایا آنَا سَيْدُ وُلدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ (ابن ماجه ( لَوْ كَانَ مُوسَى وَعِيسَى حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتَّبَاعِی (الیواقیت والجواہر ) کہ میں سب آدم زادوں کا سردار ہوں۔اگر آج موسیٰ اور عیسی زندہ ہوتے تو میری تابعداری کے سوائے اُن کے لئے کوئی چارہ کار نہ تھا۔اب اگر کوئی اس کا نام اختلاف بیائی رکھ سکتا ہے تو وہ شوق سے حضرت مسیح موعود کے ہر دو بیانات کے نام بھی تضاد اور تناقض قرار دے۔مگر یہ قول کسی عقلمند کا نہیں ہو سکتا إِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ - پھر دیکھئے جب تک بقول حافظ امام ابن حجر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ابن صیاد کے متعلق انکشاف نہیں ہو ا حضور نے اس کے متعلق تر در اختیار فرمایا چنانچہ لکھا ہے : " آنحضرت صلعم دروے ( ابن صیاد ) قول مردد گفته و فرموده ان یکن هو و این نزد اوائل قدوم او بدینه بود و چوں تمیم داری اور اخبر کرد جزم فرمود با نکہ دجال ہماں محبوس است که تمیم اور دیدہ و حدیث او بیابد وحلف عمر نز درسول خدا صلعم مبنی بر طن اوست - وسکوت آنحضرت صلعم بہت آن بود که وے دراں وقت متردد بود ( حج الكرامه صفحه ۴۱۷) ترجمہ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد کے بارے میں پہلے شک والا کلام فرمایا اسی لئے کہا کہ اگر یہ دجال ہے۔حضور کا یہ کلام مدینہ آنے کے شروع کا ہے۔جب تمیم داری نے حضور کو خبر دی تو حضور نے یقین فرمالیا کہ دجال وہی ہے جسے تمیم داری نے جزیرہ میں محبوس دیکھا ہے۔حضور نے ان کی بات بھی ذکر فرما دی۔حضرت عمرؓ کا حضور کے سامنے ابن صیاد کے دجال ہونے پر قسم اٹھا ناخن کی بناء پر تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پر خاموشی (251)