تفہیماتِ ربانیّہ — Page 247
درگاہ بن گیا۔غرض حالات کے بدل جانے سے رائے کا بدل جانا نہ صرف محل اعتراض نہیں بلکہ ایسا ہونا از بس ضروری ہے۔اب غور فرمائیے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس تفسیر کی تعریف فرمائی اس کی کیا حالت تھی۔ہم ڈاکٹر عبد الحکیم کے اپنے الفاظ میں اس کی تفسیر کی دونوں حالتوں کو درج ذیل کرتے ہیں :- پہلی حالت دوسری حالت دو میں نے حضور کی تائید میں جو نا چیز میں اس تاریخ سے اپنی بیعت خدمت کی وہ یہ ہے کہ قریباً چھ ہزار روپیہ واپس لیتا ہوں۔میری تفاسیر اور تذکرۃ صرف کر کے قرآنی تفاسیر اردو و انگریزی القرآن میں جو مضامین مرزا صاحب میں شائع کی جس میں حضور ( حضرت مسیح کے متعلق شائع ہوچکے ہیں ان کو موعود کے متعلق تمام تائیدی مضمون مشکوک سمجھا جاوے۔اگر مرزا جو مختلف کتابوں میں شائع ہوئے صاحب نے موجودہ زیادتیوں کی موقعہ بموقعہ درج کئے گئے ہیں۔میری اصلاح نہ کی اور تو بہ شائع نہ کی تو آئندہ رائے میں احسن طریق کسی اسلامی میں ان تمام مضامین کو اپنی تفاسیر خدمات کا یہی ہے کہ قرآن مجید کے ساتھ میں سے نکال دوں گا۔“ ساتھ علی التناسب اس کو پیش کیا جائے ( الذكر الحكيم صفحه ۴۹)۔۔۔۔۔لوگوں نے مجھے یہ بھی نصیحت کی اور خطوط بھی بکثرت آئے کہ اگر حضرت مرزا صاحب کے متعلق اس میں سے مضامین نکال دیئے جائیں تو اس تفسیر کی اشاعت ہزاروں تک پہنچ سکتی ہے۔بلکہ بعض مسلمان مشنریوں نے اپنی زندگی اس کی امداد میں وقف کرنی ظاہر کی مگر میں نے توکل بخدا ان تمام باتوں کو نظر انداز کیا۔(247)