تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 224 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 224

ہا تک دی تھیں؟ بھلا کوئی عقلمند انسان اس کو تناقض ، تضاد ، اور اختلاف بیان کہہ سکتا ہے؟ اگر یہی آپ کا مایہ ناز سرمایہ ہے تو پھر اس میں اور بھی اضافہ کر لیجئے کہ پہلے حضرت مرزا صاحب اپنے آپ کو مسیح موعود نہ کہتے تھے پھر مسیح موعود ہونے کے مدعی ہوئے۔پہلے مدعی مہدویت نہ تھے پھر مدعی ہو گئے وغیرہ وغیرہ۔اس قسم کی عبارات کو متضاد اور متناقض قرار دینا انصاف کا خون کرنا ہے۔کتنی واضح بات ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر ظاہر نہ فرمایا گیا آپ انکار فرماتے رہے جب اس باب میں اللہ تعالیٰ نے متواتر الہامات کے ذریعہ توضیح فرما دی تو آپ نے بھی اعلان فرما دیا۔سید الانس والجآن فرماتے ہیں :- 66 "مَنْ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بُنِ مَتَى فَقَدْ كَذَبَ ( ترمذی جلد ۲ صفحه ۱۵۶) کہ جو کہے کہ میں حضرت یونس سے بہتر ہوں وہ کا ذب ہے۔لیکن بعد تو اتر وحی منجانب اللہ درباره افضلیت خود فرمایا آنا سَيِّدُ وُلدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ (ابن ماجه جلد ۲ صفحه ۳۰۲ مطبوعه مصر) کہ میں سب آدم زادوں کا سردار ہوں۔کیا کوئی دانشمند کہہ سکتا ہے کہ نعوذ باللہ حضور نے اوائل میں جونرمی اختیار کی یا یونٹ کی افضلیت کا اعتراف فرمایا تو وہ وہی نرمی تھی جو ایک نئے دکاندار کے لئے لازم ہوتی ہے۔“ (عشرہ صفحہ ۵۱۵) منشی محمد یعقوب کا ایسا خیال در حقیقت اپنی باطنی حالت کا اظہار ہے۔بیچ ہے بے فکر ہر کس بقدر ہمت اوست الجواب معترض پٹیالوی نے انکار کفر کے لئے تریاق القلوب وغیرہ سے دو حوالے درج کئے ہیں اور بعد کی چند عبارات درج کی ہیں۔یہ سوال بعینہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے پیش کیا گیا۔سائل لکھتا ہے :- حضور عالی نے ہزاروں جگہ تحریر فرمایا ہے کہ کلمہ گو اور اہل قبلہ کو کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ علاوہ ان مومنوں کے جو آپ کی تکفیر کر کے کافر بن جائیں صرف آپ کے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہو سکتا۔لیکن عبد الحکیم خان کو آپ لکھتے ہیں کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔اس بیان اور پہلی کتابوں کے بیان میں تناقض ہے۔یعنی پہلے آپ تریاق القلوب وغیرہ (224)