تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 217 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 217

کیونکہ یہ لوگ اس بات کے عادی ہو چکے ہیں۔ناظرین! خدا لگتی کہئے کہ اگر یہ درست ہے کہ :- خدا کسی حکمت سے چند روز ایک حکم صادر فرمائے اور بعد چند روز کے اس کو اُٹھا دے تو کوئی مشکل امر نہیں۔“ ( تفسیر ثنائی جلد اول صفحه ۱۰۴) تو پھر اگر خدا کا ایک بندہ چند روز تک ایک حکم یا ایک بات بیان کرے پھر کچھ عرصہ کے بعد خدا اس کو اُٹھاوے تو یہ کوئی مشکل امر ہے؟ ہر گز نہیں۔پھر اس کو اختلاف بیانی قرار دیکر شور مچانا بلکہ مدعی کی بطالت کی دلیل گرداننا سراسر نادانی ہے۔معترض پٹیالوی کا چیلنج اس مختصر تمہید کے بعد میں یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کے وہ اختلاف جن کو دشمن محض سوء منہمی سے اختلاف قرار دے رہے ہیں در حقیقت کوئی اختلاف اور تناقض نہیں۔جیسا کہ آپ کو خود بھی ابھی معلوم ہو جائے گا۔لیکن آپ معترض پٹیالوی کی جو محض دوسروں کا پس خوردہ کھانے والا ہے تحدی بھی ملاحظہ فرما ئیں بحروف جلی لکھا ہے :۔( ہم ) اس اختلاف بیانیاں یہاں درج کرتے ہیں اور میرزائی صاحبان کو چیلنج دیتے ہیں کہ وہ اختلافات میں تطبیق کر کے دکھلا دیں۔“ (عشرہ صفحہ ۵۳) کسی نے خوب کہا ہے بے لومینڈ کی کو بھی زکام ہوا۔اختلافات کا جواب پہلا اختلاف۔اس نمبر پر منشی صاحب نے ازالہ اوہام توضیح مرام اور ایک غلطی کا ازالہ کے حوالے درج کرنے کے بعد لکھا ہے :- حوالہ الف (ازالہ اوہام ) میں محدثیت کا اقرار ہے اور نبوت کا انکار۔مگر حوالہ ج ایک غلطی کا ازالہ ) میں نبوت کا دعویٰ ہے اور محدثیت سے انکار۔پس بقول خود نہ آپ محدث ہیں نہ نبی۔(عشرہ صفحہ ۵۴) (217)