تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 14 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 14

يَتَكَذَّبُ عَلَيْهِمْ فَإِنَّهُمُ لَا يُمْهِلُونَهُ بَلْ يَضْرِبُونَ رَقْبَتَهُ فِي الْحَالِ ( تفسیر کبیر جلد ۸ صفحه ۲۰۵ مطبع میمنیه مصر) ترجمہ :۔اس آیت میں مفتری کی حالت تمثیلا بیان کی ہے کہ اس سے وہی سلوک ہوگا جو بادشاہ ایسے شخص سے کرتے ہیں جو اُن پر جھوٹ باندھتا ہے۔وہ اس کو مہلت نہیں دیتے بلکہ فی الفور قتل کرواتے ہیں۔( یہی حال مفتری علی اللہ کا ہوتا ہے ) پھر آپ اس عدم مہلت اور جلد قتل کئے جانے پر عقلی ونقلی بحث کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :- هَذَا هُوَ الْوَاجِبُ فِي حِكْمَةِ اللهِ تَعَالَى لِئَلَّا يَشْتَبِهَ الصَّادِقُ بالْكَاذِب ( جلد ۸ صفحہ ۲۰۶) کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت ایسا ہونا ضروری اور جب ہے تا کہ صادق و کاذب کے حالات مشتبہ نہ ہو جائیں۔“ گویا جس طرح آیت اس معیار کی مؤید ہے عقل بھی اسی کی تائید کرتی ہے۔امام ابوجعفر طبری لکھتے ہیں : وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا مُحَمَّدٌ بَعْضَ الْأَقَاوِيْلِ الْبَاطِلَةِ وَتَكَذَّبَ عَلَيْنَا لا خَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ يَقُولُ لَآ خَذْنَا مِنْهُ بِالْقُوَّةِ مِنَّا وَالْقُدْرَةِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ نِيَاطَ الْقَلْبِ وَإِنَّمَا يَعْنِي بِذَالِكَ أَنَّهُ كَانَ يُعَاجِلُهُ بِالْعُقُوبَةِ وَلَا يُؤَخِّرُهُ بِهَا ( تفسیر ابن جریر جلد ۲۹ صفحہ ۴۲ مطبوع مصر ) ترجمہ : ” اگر آنحضرت نے ہم پر افتراء باندھا ہوتا تو ہم اس سے سخت گرفت کرتے اور پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے۔یعنی اللہ تعالیٰ آپ کو جلد سزا دیتا اور اتنی مہلت نہ دیتا۔“ علامہ زمخشری فرماتے ہیں :- وَالْمَعْنَى وَلَوْ اِدَّعَى عَلَيْنَا شَيْئًا لَمْ نَقُلُهُ لَقَتَلْنَاهُ صَبْرَ أَكَمَا يَفْعَلُهُ الْمُلُوكَ بِمَنْ يَّتَكَذَبُ عَلَيْهِمُ مُعَا جَلَةٌ بِالشَّخْطِ وَالْانْتِقَامِ ( تفسیر کشاف صفحه ۱۵۲۴ مطبوعه کلکته ) ترجمہ : ” اگر یہ مدعی ہم پر افتراء کرتا تو ہم اس سے جلد انتقام لیتے اور اس کو قتل 14