تفہیماتِ ربانیّہ — Page 161
اچھا نہیں کو بھی پیش کیا ہے۔اول تو ان کا جواب او پر کی عبارت میں آگیا ہے چنانچہ حضرت نے بحیثیت کرشن ہونے کے آریوں کی غلطیوں کی توضیح فرمائی ہے اور رُوحانی بادشاہ کا یہی کام ہوتا ہے کہ عقائد فاسدہ کی اصلاح کرے۔اور برہمن اوتار“ کے معنی خدا کا نبی کے ہیں۔برہما خدا کا نام ہے اور اوتار اسکے معنی لیکچر سیالکوٹ میں حضرت نے خود نبی تحریر فرمائے ہیں۔(صفحہ ۳۴ طبع دوم ) پس حضرت مسیح موعود کی بیان فرمودہ تشریح کے مطابق کوئی اعتراض نہیں۔دوسرے جس طرح مسیح اول علیہ السلام نے کہا کہ میں یہودیوں کا بادشاہ ہوں اسی طرح مسیح محمد سمی نے کہا کہ خدا نے مجھے آریوں کا بادشاہ بھی قراردیا ہے۔وہاں یہودی خیالات لازمی نہ تھے یہاں آرین عقائد ضروری نہیں۔حضرت مسیح ناصری نے بالآخر فر مایا کہ میری بادشاہت اس جہان کی نہیں۔(یوحنا۳۶/ ۱۸) اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں مجھ کو کیا ملکوں سے میرا ملک ہے سب سے جدا مجھ کو کیا تاجوں سے میرا تاج ہے رضوان یار ہم تو بستے ہیں فلک پر اس زمیں کو کیا کریں! آسماں کے رہنے والوں کو زمین سے کیا نقار ملک روحانی کی شاہی کی نہیں کوئی نظیر گو بہت گزرے ہیں دنیا میں امیر و تاجدار (براہین احمدیہ حصہ پنجم ) پس معترض کا اعتراض سراسر باطل ہے۔معترض پٹیالوی کو اس بات پر بھی اعتراض ہے کہ متعدد نام کیوں رکھے گئے۔افسوس کہ واقفیت دین اس کے بس کا روگ نہیں ورنہ وہ اس پر حیران نہ ہوتا۔ہم دونوں فریق تسلیم کرتے ہیں کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ہزار نام تھے۔پڑھے۔” وَذَكَرَ ابْنُ الْعَرَبِي آنَ لِلَّهِ أَلْفَ اسْمٍ وَلِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلفَ اسم ( مجمع البحارجلد اصفحہ ۳۰۰ وزرقانی شرح موطا جلد ۴ صفحہ ۲۴۸) اور ماضی، حاشر، احمد ، عاقب وغیرہ تو بہت مشہور ہیں۔اب اگر حضرت |444 مرزا صاحب کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے چند نام رکھے گئے تو اس میں کونسا حرج لا زم آ گیا ؟ لے مولانامحمد قاسم صاحب بانی مدرسہ دیو بند کو بھی بعض لوگوں نے ” اوتار“ کہا ہے۔(رسال گفتگوئے مذہبی طبع مجتبائی صفحہ ۴۰) 161۔