تفہیماتِ ربانیّہ — Page 131
بدر ۵ ستمبر ۱۹۰۷) گو یا الہام الہی میں جو مذکور تھا پورا ہو گیا۔معترض نے استدلال کیا ہے کہ چونکہ ۱۶ ستمبر کو مبارک احمد فوت ہو گیا لہذا الہام غلط نکلا۔حالانکہ جس طرح نو دن کے بعد مین دسویں دن بخار کا ٹوٹنا حضرت کے الہام کی کھلی تصدیق ہے اسی طرح مبارک احمد کی چھوٹی عمر کی وفات بھی آپ کی صداقت پر زبردست دلیل ہے کیونکہ آپ نے قبل ازیں اسی بچے کے متعلق شائع فرمایا تھا :- (الف) '' جب یہ ( مبارک احمد ) پیدا ہونے کو تھا تو یہ الہام ہوا۔اِنِّی أَسْقُطُ مِنَ اللهِ وَاصِيبُهُ یعنی میں خدا کے ہاتھ سے زمین پر گرتا ہوں اور خدا ہی کی طرف جاؤں گا۔میں نے اپنے اجتہاد سے اس کی یہ تاویل کی کہ یہ لڑکا نیک ہوگا، اور رو بخدا ہوگا، اور خدا کی طرف اس کی حرکت ہوگی ، اور یا یہ کہ جلد فوت ہو جائے گا۔اس بات کا علم خدا تعالیٰ کو ہے کہ ان دونوں باتوں میں سے کونسی بات اس کے ارادہ کے موافق ہے۔( تریاق القلوب صفحه ۴۰ مطبوعہ ۱۹۰۲ ) (ب) " جس طرح بخار کے ٹوٹنے کا الہام ہوا تھا اُسی طرح دوسرے مرض کے پیدا ہو جانے پر ۱۴ر ستمبر۱۹۰۷ ء کو حضرت کو الہام ہوا :- لا عِلاجُ وَلَا يُحْفَظُ کہ اب اس کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا۔چنانچہ دودن کے بعد مبارک احمد کا انتقال ہو گیا۔انا للہ وانا اليه راجعون۔(ج) عام طور پر اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی کہ :- میں تیری ذریت کو بہت بڑھاؤں گا اور برکت دوں گا مگر بعض ان میں سے کم عمری میں فوت بھی ہوں گے۔“ (اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء) پس صاحبزادہ مبارک احمد کی وفات بھی حضرت مسیح موعود کی صداقت کی دلیل ہے اور ان کے بخار کا ٹوٹنا بھی سچائی کا نشان۔اے کاش کہ ہمارے مخالفین کو بصیرت والی آنکھ دی جاتی ہے اک نشاں کافی ہے گر دل میں ہے خوف کردگار 131