تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 121 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 121

مضمحل ہو جا ئیں گے اس خوف سے سب جن و انس زار بھی ہوگا تو ہوگا اس گھڑی باحال زار ربانی نشاں اک نمونہ قہر کا ہوگا وہ آسماں حملے کرے گا بیچ کر اپنی کٹار ہاں نہ کر جلدی سے انکار اے سفینہ ناشناس اس پہ ہے میری سچائی کا سبھی دارو مدار وحی حق کی بات ہے ہوکر رہے گی کچھ دنوں کر صبر ہوکر مشقی یہ گماں مت کر کہ یہ سب بدگمانی ہے معاف قرض ہے واپس ملے گا تجھ کو یہ سارا اُدھار بے خطا اور بردبار ( براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحه ۱۲۰) لطیفہ - حضرت اقدس نے زلازل کی پیہم خبروں کے باعث اپریل ۱۹۰۵ میں گورنمنٹ کو خط لکھا کہ :- وہ کوئی ایسی تجویز کرے جس سے گورنمنٹ کے حکام جنوری ۱۹۰۶ ء تک پہاڑوں سے اجتناب کریں۔“ اس پر معترض پٹیالوی تمسخر کرتا ہے کہ رعایا کا فکر نہیں نیز یہ بھی پتہ نہیں کہ نومبر، دسمبر، جنوری سخت سردی کے مہینے ہیں اور گورنمنٹ کے دفاتر ان دنوں میں پہاڑ پر نہیں رہتے۔“ (صفحہ ۴۰) سچ ہے عے اندھے کو اندھیرے میں بہت دُور کی سوجھی نادان! اگر رعایا کا فکر نہ ہوتا تو اس کی بکثرت اشاعت کیوں کی جاتی ؟ کیا تو نے خود اپنے قلم سے اسی ریویو آف ریلیجنز مئی ۱۹۰۵ ء کے حوالہ سے یہ الفاظ نہیں لکھے کہ " خدا کے حکم سے یہ پیشگوئی کروڑوں انسانوں میں شائع کی جاچکی ہے۔“ کسی نے خوب کہا ہے ع درونگو را حافظہ نباشد سردی میں دفاتر نہ رہنے کی بھی ایک ہی کہی ، بے شک عارضی دفاتر اپنے مقام 121۔