اردو کلاس میں تدریس نماز — Page 3
تدريس نماز ہو جا ئیں اس سے بہتر رستہ بتاؤ تم اللہ کے قریب ہونے کا۔اپنی عبادت بتاؤ اور دیکھو۔تو جو اچھا رستہ ہے، جو جلدی پہنچاتا ہے ، جو زیادہ فائدہ دینے والا ہے اس کو پکڑ لو۔اسلام کی تبلیغ نماز سے بھی ہو جاتی ہے۔نماز کے شروع حصہ میں (انى وَجَّهْتُ سے ) شروع کرو۔ساری بات اپنی سہیلیوں کو سمجھاؤ۔تو دیکھو کتنا اچھا پیغام دینے کا طریق ہے۔یہ طریقہ اختیار کرو، اس سے تمہیں اللہ مل جائے گا۔تعوذ أعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان سے جو راندہ ہوا ہے۔یہ باتیں عورتیں اپنے حوالہ سے سمجھ سکتی ہیں اور مرد اپنے حوالہ سے۔اگر آپ کے ساتھ کوئی بچہ جارہا ہو آپ کی انگلی پکڑ کر۔وہ دوڑ کے آگے چلا جائے ، آگے کتا مل جائے اور وہ گتے سے ڈرتا ہو تو وہ تیزی سے واپس آ جائے گا، اور آکے آپ سے چمٹ جائے گا اور کہے گا کہ مجھے گودی میں اٹھالو، یہ کتا میرے پیچھے پڑ گیا ہے۔تو پناہ مانگنے کا یہ مطلب ہے۔اے اللہ ! میں تیری حفاظت میں آرہا ہوں۔کس سے؟ شیطان سے۔کتا چھٹا ہوا ہے ایک، وہ مجھ پر پڑتا ہے بار بار تو مجھے اپنی گود میں اٹھا لے۔جیسے کتنے سے بچاؤ کے لئے والدین کام آتے ہیں۔اگر شیطان سے پناہ مانگنی ہو تو اللہ کام آتا ہے، ماں باپ کام نہیں آتے۔( تو) اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔اللہ کی پناہ مانگتی مانگتا ہوں کہ اے اللہ ! جو تیری حفاظت میں آجائے اس کو شیطان کچھ نہیں کہہ سکتا۔چونکہ شیطان اللہ سے ڈرتا ہے اور کسی سے نہیں ڈرتا، اللہ کے قریب بھی نہیں جاتا۔اسی لئے دھتکارا ہوا بھی ساتھ کہہ دیا۔اب کتے کو کوئی بھش کر کے بھگا دے تو اس گتے کو کہتے ہیں دھتکارا ہوا۔تو اللہ نے جب شیطان کو دھتکار دیا کہ جاؤ ، دفع ہو جاؤ ، تو شیطان اب اس کے پاس نہیں جا سکتا۔اس لئے پناہ کا مطلب ہے کہ ہم اس سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔اللہ میاں تو ہمیں سنبھال لے اور شیطان سے بچا جس کو تو نے دھتکار دیا ہے۔پس اور جہاں بھی کہیں جائیں شیطان بھی (وہاں) ہو سکتا ہے۔تیرے پاس نہیں ہو سکتا۔یہ ہے معنی اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ کا۔(اردو کلاس نمبر ۳۱۰، منعقد ا ا/اکتوبر ۱۹۹۷ء) ( بحوالہ اخبار افضل انٹرنیشنل ۲۸ فروری ۲۰۰۳ صفحه ۱۳)