اردو کلاس میں تدریس نماز — Page 22
تدريس نماز 22 سے پہلے پہلے واپس کر دینا کہ سب تیرے حوالے، یہ کوشش جو ہے اس کا نام مذہب ہے۔سب سے بڑا وجود جس نے واقعہ واپس کیس وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔مثلاً میں آپ کو کوئی چیز دوں پھر آپ سے واپس لے لوں۔آپ نے مجھے واپس کر دی ہیں۔مالک تھا تو واپس کیں۔میں آپ سے کہتا ہوں آپ یہ لیں ، کھائیں پئیں، استعمال کریں لیکن جب میں مانگوں واپس کر دیں۔اگر آپ میرے مانگنے سے پہلے ہی واپس کر دیں تو کیا میں دوبارہ مانگ سکتا ہوں؟ اب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں قرآن شریف میں آتا ہے: ﴿ قُلْ إِنَّ صَلَاتِی وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ﴾ (الانعام ١٦٣) یعنی تو اعلان کر دے کہ میری عبادتیں، میری قربانیاں، میرا جینا، میرا مرنا اللہ کا ہو گیا ہے۔میرے بس کچھ نہیں رہا۔یہ اعلان اس دنیا میں ہوا ہے۔اب قیامت کے دن اللہ کیسے دوبارہ مانگے گا کہ مجھے واپس کر دے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ سکتے ہیں کہ تم نے ہی تو کہا تھا کہ اعلان کر۔اگر تجھے یہ چیزیں وصول نہ ہوئی ہوتیں تو مجھے کیسے اجازت ہوتی اعلان کرنے کی۔یہ مطلب ہے ملِكِ يَوْمِ الدين کا۔اس نقطہ کو اگر کوئی سمجھا ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سمجھے ہیں۔اور کوئی نہ سمجھ سکا۔آپ نے فرمایا یہ وہ رسول ہے ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ زمین پر بنایا گیا۔چونکہ مالک کے نیچے آگیا۔ہر چیز اس کے سپر د کر دی گئی۔اب جو کچھ وہ کرے گا، مالک کے نمائندہ کے طور پر کرے گا، اپنی مرضی تو نہیں ہوئی۔جو مالک چاہتا ہے، جو مالک کہے گا وہی کرے گا۔اللہ نے جو آپ کو آنکھیں دیں، کان دئے ، دانت دئے اور جیسی بھی عقل ہے ویسی دی۔اور اب وہ ساری چیزیں اللہ کو واپس کر دیں کہ یہ اب تیرے سپرد ہیں، جیسے تو کہے گا ویسے استعمال ہوں گی ورنہ نہیں۔اب تیری مرضی ہے۔تو کیا خدا تم سے دوبارہ یہ ساری چیزیں مانگ سکتا ہے؟ نہیں تم کہہ سکتے ہو اللہ میاں سب کچھ دے تو دیا ہے۔تو اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے ہوش نہیں ہوں گے۔کیوں کہ ہوش انہی چیزوں کا نام ہے، جو ہماری طاقتیں ہیں۔جب ہوش واپس گئی تو سب کچھ واپس چلا گیا۔اس لئے فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ ﴾ سے مراد ہے کہ قیامت کے دن پہلا بگل ایسا ہو گا جس میں ہر چیز اپنی ہر طاقت سے محروم کر دی جائے گی کیوں کہ اس کا مالک اللہ ہے۔لہذا اصل مالک کہے گا کہ مجھے میری چیز واپس کرو۔جو پہلے واپس کر چکے