اردو کلاس میں تدریس نماز — Page 6
تدريس نماز آنکھیں ، ناک، کان ، خون، پیٹ، بازو، اندر کی چیزیں گردے، گلے کے اندر غدود ہیں، جگر، جتنی چیزیں ہیں ماں کے پیٹ میں، جو بیضہ ہے جس میں بچہ بننا شروع ہوتا ہے مرد کے ذرے کے ساتھ مل کر۔یہ بیضہ ماں ہے انسان کی اور انسان کی تمام باتیں اس کے اندر موجود ہوتی ہیں۔اس طرح سورہ فاتحہ پر جتنا بھی غور کریں، سورہ فاتحہ میں قرآن کریم کی باتیں دکھائی دیتی ہیں اور قرآن کریم سورہ فاتحہ کے مضون سے زیادہ سمجھ آتا ہے۔اردو کلاس نمبر ۳۱۰، منعقده ۱۱ اکتوبر ۱۹۹۷ء) ایک اور کلاس میں حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : رَح من کے دو معنی ہیں: (۱) الرحمن اس ذات کو کہتے ہیں جس سے زیادہ رحم کرنے والا نہ ہو۔اور (۲) بن مانگے دینے والا۔کسی نے کچھ نہ مانگا ہو اور پھر بھی وہ دیدے، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا اسی سے نکالتا ہے۔الرحمن ایسی ذات جس سے کوئی مانگنے والا ہو ہی نہیں پھر بھی دے دے۔مائیں بچہ پیدا کرتی ہیں، بچہ ابھی ہوتا ہی نہیں ، وہ مانگتا ہی نہیں کہ مجھے پیدا کرو۔اس لئے ماؤں کے اُس حصہ کو جس میں بچہ بنتا ہے اس کو رخم کہتے ہیں۔دونوں کا مادہ ایک ہی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ رحمن اور رحم کا مادہ ایک ہی ہے۔انسانوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والی ماں ہے اور بن مانگے دینے والی بھی ماں۔دودھ جب بچہ مانگ نہیں سکتا، کوئی اپنی ضرورت پوری نہیں کروا سکتا، کچھ کہ نہیں سکتا، وہ پھر بھی وہی کرتی ہے۔پیدا بھی کرتی ہے، بناہی نہیں ابھی ، کوئی مانگنے والا ہے ہی نہیں۔تو رحمن کا ایک مطلب ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا ، حد سے زیادہ ، جس کا تصور بھی نہیں کسی کو۔اور پھر بن مانگے دینے والا۔یہ رحمن ہے۔اس لئے جب کہو الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ - الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ کی اس خدا کے کتنے احسانات ہیں۔رَبِّ الْعَلَمِينَ ) سارے جہانوں کو پالتا ہے۔ڈائنا سور بھی اسی نے پالا ہے۔ڈائنا سور کا دن مانگے دینے والے سے کیا تعلق ہے؟