اردو کلاس میں تدریس نماز — Page 4
تدريس نماز بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمن ہے ، رحیم ہے۔یہاں صرف دو صفات بیان ہوئی ہیں۔اس سے پہلے اللہ کا تعارف کروایا تھا کہ ساری خوبیوں کا مالک، ہر بدی سے پاک۔اب رحمن اور رحیم، تیرا نام اللہ ساری خوبیاں لئے ہوئے ہے۔اب بسم اللہ کے ساتھ دو نام دیتے ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ اللہ کا نام ایک ہے لیکن اس کے اندر صفات زیادہ ہیں۔اور جو بنیادی صفات خدا کے اندر ہیں اور جو ساری خدائی صفات کو اپنے اندر لئے ہوئے ہیں وہ رحمن اور رحیم ہیں۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ اللہ کے نام کے ساتھ جو بھی کرو، جو بھی دماغ میں ہو تو بسم اللہ کو اس کے لئے کافی ہے۔اگر تم کھانے لگے ہو تو کہہ دو بسم اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیم۔اگر سفر پر جا رہے ہو تو بِسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ۔اگر کپڑے پہننے لگے ہو تو بِسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيم۔جو کام بھی کرو وہ اسی ایک چھوٹی سی آیت سے ہو جائے اور اللہ کا نام سب کے ساتھ لگ جائے گا۔اللہ کی جب پناہ مانگی ہے شیطان سے تو اس پناہ کے بعد پھر اللہ سے کچھ حاصل بھی تو کرنا ہے۔یہ تو نہیں کہ شیطان دوسری طرف چلا گیا تو فٹافٹ گودی سے اتر کر بھاگ گئے جیسے بچے کرتے ہیں۔کتا آیا تو دوڑ کے اپنے ابا امی کے پاس چلے گئے، کتا گیا تو ٹانگیں مار کے اتر گئے فورا، کہ اب ہمیں جانے دو۔بسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ ﴾ کا مطلب یہ ہے کہ أَعُوذُ بِاللهِ ﴾ کے بعد اب اللہ کے ساتھ رہنا ہے۔شیطان سے جب پناہ مانگی تو اب اللہ کے ساتھ ہی رہنا ہے۔اور اللہ کے ساتھ رہنے کے کچھ فائدے ہیں۔ایک فائدہ تو یہ ہے کہ ہر کام میں اللہ کام آئے گا۔بسم اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ ﴾ کہہ کے جو مرضی کرو، جو مرضی کھاؤ، جو مرضی پیو، جو مرضی پڑھو، جو مرضی چیزیں اختیار کرو، کپڑے لو، سامان لو، اگر بسم اللہ کی پڑھو گے تو تمہارا کام برکت والا ہو گا۔اور اللہ کے ساتھ کوئی بُرا کام تو نہیں کر سکتے۔بسم اللہ کہہ کے کوئی گندی چیز تو نہیں کھا سکتے۔بسم اللہ کہہ کے سود پر قرض نہیں لے سکتے۔بسم اللہ کہہ کے کوئی حرام کام نہیں کر سکتے۔بسم اللہ نے