اردو کلاس میں تدریس نماز — Page 45
تدريس نماز 45۔۔۔۔۔۔صبح کی دو سنتیں کبھی بھی نہیں چھوڑتے تھے۔اس لئے یہ فرض کے قریب قریب ہو جاتی ہیں۔فرض تو نہیں لیکن جیسا کہ فرض۔دور کعتیں سنت کی پہلے اور پھر فرض۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی سنتیں ہلکی پڑھا کرتے تھے۔ایک ہی نماز ہے آپ کی جس کو ہمیشہ بہت ہی ہلکا کر لیا کرتے تھے۔یعنی صبح کی نماز پہ جانے سے پہلے سنتیں تیز پڑھتے تھے۔دیکھنے والے بعض اوقات حیران ہوتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا تیز یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے تیز۔ہمارے لحاظ سے تیز نہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نمازیں پڑھتے تھے ان کے مقابل پر صبح کی سنتیں بہت ہلکی لگتی تھیں۔چونکہ تہجد کے بعد نماز پہ جانے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرماتے تھے اور پھر جلدی کرتے تھے نماز پہ جانے کے لئے۔بہتر یہ ہے کہ سنت گھر میں پڑھیں اور فرض مسجد میں جا کر پڑھیں۔تهجد نماز تہجد نفل ہے۔اصل نفل یہی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے ﴿ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لكَ نَافِلة سے مراد نفل ہے۔لیکن نفل تو انسان سارا دن پڑھ سکتا ہے۔ہر نماز کے بعد پڑھ سکتا ہے۔بعض لوگ مغرب کے بعد پڑھتے ہیں ، بعض عشاء کے بعد پڑھتے ہیں۔تو یہ سب نوافل ہیں نفل کی جمع نوافل ہے۔تہجد کے بعد آخر پر ایک رکعت پڑھ لیں تو یہی وتر ہو جاتے ہیں۔تہجد کے وقت نماز پڑھیں، قرآن پڑھیں، گھنٹہ، ڈیڑھ گھنٹہ، کاموں کے لحاظ سے جتنی توفیق ملے ٹھیک ہے۔قرآن شریف میں فرمایا مَا تَيَسَّرَ تَيَسَّر کا مطلب ہے توفیق۔تو قرآن پڑھنے کی نماز میں جتنی بھی توفیق ملے ویسا ہی پڑھیں اور تہجد بھی اپنی توفیق کے مطابق پڑھے۔نماز آرام سے پڑھنی ہوتی ہے۔مرغی کی طرح ٹھونگے نہیں مارنے ، آرام سے نماز پڑھتے ہیں۔اس لئے اس تہجد کی نماز میں وقت چاہئے۔جلدی میں تو نہیں ہو سکتی۔مگر وقت کے لحاظ سے آپ اپنے لئے چن لیا کریں۔جتنی تہجد پڑھنی ہو شوق سے پڑھیں۔اردو کلاس نمبر ۳۲۱ منعقد ۱۲۰ار نومبر ۱۹۹۷ء ) ( بحواله الفضل انٹر نیشنل ۹ رمئی ۲۰۰۳ء)