اردو کلاس میں تدریس نماز — Page 39
تدريس نماز : 39۔۔۔۔۔۔بھی نہیں ہے۔ہمارے علماء نے تحقیق نہیں کی کہ یہ پائی بھی جاتی ہے یا نہیں۔اور وہ الفاظ لکھ دئے جو آپ نے یاد کر لئے۔میرا خیال ہے کہ ان علماء میں بعض ایسے معتبر علماء بھی تھے۔ان پر میں شک بھی نہیں کر سکتا کہ انہوں نے کہیں بھی نہ پڑھی ہو۔ہو سکتا ہے کہ ہمارے علماء نے ابھی پوری تحقیق نہ کی ہو، یعنی صرف صحیح کتابوں کی تحقیق کی ہو جو چھ صحیح کتابیں ہیں۔اور ہوسکتا ہے کہ وہ بعض دوسری کتابوں میں موجود ہو۔میرے علم میں ہمارے علماء میں ایک بھی ایسا نہیں جو اپنی طرف سے ایسی کوئی بات گھڑے۔لیکن جب ہماری کتابوں میں جگہ مل گئی تو اس سے ثابت ہوا کہ انہوں نے کوئی حدیث کہیں پڑھی ہے۔اس میں الفاظ زیادہ تھے تو ان کو اچھا لگا تو انہوں نے سارے الفاظ بھر دئے۔وَارْفَعْنِی کا مطلب جو غیر احمدی مولوی نکالتے ہیں وہ یہاں ہو نہیں سکتے۔وہ کہتے ہیں : ” مجھے جسم سمیت اٹھائے جیسا کہ حضرت عیسی کے متعلق رَفَعَ کا لفظ آتا ہے بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ ﴾ اس کا اپنی طرف رفع کر لیا اور رفع کا مطلب جسم کے ساتھ اٹھانا ہے۔اب وَارْفَعُنِی کا مطلب جسم سمیت اٹھا لینے کا ہو ہی نہیں سکتا۔ورنہ اگلا سجدہ ہوہی نہیں سکتا۔مطلب یہ ہے کہ سجدہ میں انسان اٹھایا جاتا ہے۔جتنا خدا کے سامنے جھکو اتنا ہی خدا اونچا کرتا ہے۔اس کا مرتبہ بلند ہوتا ہے۔لہذا وَارْفَعُنِی کا مطلب ہے ”میرا امر تبہ بلند فرمادے“۔اور یہ کہہ کر کہ سجدہ میں جائیں تو بات کتنی مکمل اور خوبصورت بن جاتی ہے۔اور یہ اس حدیث میں نکل آتی ہے۔اس لئے اب اس حدیث کو یاد کر لو۔اس کا مضمون ایسا ہے کہ فورا یاد ہونی چاہئے۔ارد و کلاس نمبر ۳۲۲ ، منعقده ۱۴ نومبر ۱۹۹۷ء) اگلی کلاس میں حضور سور رحمہ اللہ نے اس مضمون کے تسلسل میں فرمایا:) اس کا ایک ہی راوی ہے۔اس سے آگے دو تین وہی راوی رہتے ہیں۔آگے جا کر آخر پر پہنچنے سے پہلے ایک ایک بدل جاتا ہے۔اور یہی ایک حدیث ہے جو حدیثوں کی تین کتابوں میں ہے جو صحاح ستہ میں ہیں یعنی ابن ماجہ ، ابوداؤد اور سفن ترندی۔اور اس کے اخر پر وار فَعْنِي آتا ہے جو مجھے پسند ہے۔ہو سکتا ہے اس راوی نے وَارْفَعْنِی تو یا درکھا ہو اور بعض وہ الفاظ بھول گیا ہو جو دوسرے راویوں نے یادر کھے۔اگر سب لفظ جو اس میں استعمال ہوئے ہیں سب کو اکٹھا کر دیں تو جائز ہوگا اور