اردو کلاس میں تدریس نماز

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 26 of 46

اردو کلاس میں تدریس نماز — Page 26

تدريس نماز 26 غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ مغضوب کا کیا مطلب ہے؟ جس پر غضب ہو اُسے مغضوب کہتے ہیں۔لیکن کس کا غضب؟ اس کا ذکر نہیں۔اس کے علاوہ سب جگہ پر فاعل کا ذکر ہے۔صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا لیکن غَيْرِ الْمَغْضُوبِ میں یہ ذکر ہی نہیں کہ کس نے غضب کیا۔اس لئے ہمیشہ آپ کے ترجمہ میں یہ غلطی ہوتی ہے یہاں تک کہ قرآن کریم کے ہمارے ترجمہ میں بھی یہ غلطی موجود ہے۔یہ ذکر ہی اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا کہ کس کا غضب ہوا۔بلکہ یہ فرمایا کہ ایک ایسی قوم کا رستہ نہ دکھا جس پر غضب نازل ہوا، غضب نازل کیا گیا ،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ سورۃ فاتحہ میں یہ نہیں فرمایا کہ صِراطَ الَّذِينَ غَضِبْتَ عَلَيْهِمْ یعنی ان کا راستہ نہ دکھا جن پر تو نے غضب نازل کیا۔جبکہ انعمت فرمایا کہ تو نے انعام کیا۔اور پھر الضالين » : وہ لوگ جو خود ہی گمراہ ہو گئے۔اس میں فاعل موجود ہے لیکن مغضوب میں کوئی فاعل نہیں ہے۔الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِم ) سے مراد : ان لوگوں کا راستہ جن پر غضب نازل کیا گیا، جن پر غضب کیا گیا، جن کو سزادی گئی۔لیکن کس نے سزادی، کس نے غضب کیا، اس کا کوئی ذکر نہیں۔قرآن شریف سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا بار باران پر اپنا غضب نازل کرے گی۔اور بار باران کو انسانوں کے ہاتھوں سزائیں دی جائیں گی۔یہ قرآن کریم نے خوب کھول دیا ہے۔تو جب انسانوں کے ہاتھوں سزائیں دینا ان کا مقدر ہے تو اللہ تعالیٰ غضبت نہیں کہ سکتا تھا۔چونکہ دونوں سزائیں قرآن کریم میں مذکور ہیں۔(1) اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی سزا ملے گی۔(۲) انسانوں کے ہاتھوں سے بھی سزا ملے گی۔جس طرح جرمنی میں ہوا۔کیسے ہوا تھا ؟ نائسی قوم یہودیوں پر عذاب بن کر اتری اور آجکل انگلستان میں ٹیلی ویژن پر یہ پروپا گینڈا خوب دکھایا جار ہا ہے کہ نانسی جرمنی نے یہودیوں پر بہت ظلم کئے۔لیکن انگلستان کے ٹیلی ویژن دوسری بات نہیں بتاتے آپ کو۔یہی انگلستان ہے جہاں نانسی فلموں سے پہلے انگریزوں نے ان (یہودیوں) پر ظلم کئے اور یہودیوں کو انتہائی ذلیل کیا جاتا