اردو کلاس میں تدریس نماز

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 28 of 46

اردو کلاس میں تدریس نماز — Page 28

تدريس نماز 28 طریقے سے کھاتے رہیں۔کچھ بچے ہوتے ہیں جو کھانے میں گند ڈالدیتے ہیں۔جو بچے ایسے ہوتے ہیں جو کھانے میں گند ڈال دیں اُن کو کان سے پکڑ کر باہر نکال دیتے ہیں۔تو شروع میں دونوں پر انعام ہوا تھا۔یہ ہمارا جیس ہے نا ، حضور رحمه الله کا کم عمر نواسه مراد هے عزیزم جلیس جو مکرم کریم احمد خان صاحب اور صاحبزادی مونا سلّمها اللہ تعالیٰ کا بیٹا ھے۔مرتب) اس کو پلیٹ میں اچھا کھانا لگا دو، پانی دو، کچھ دیر کے بعد دیکھو تو پانی میں کھا نا ڈال دیتا ہے، تو ہم اسے کان سے پکڑ کر باہر نکال دیتے ہیں۔اسی طرح جن لوگوں پر خدا نے انعام فرمایا جب انہوں نے اپنا گند بیچ میں ملا دیا تو ان کو خدا الگ کر دیا تا ہے۔اللہ میاں کہتا ہے ان کا رستہ نہ مانگنا۔انعام شروع میں برابر سب پر لیکن کوئی شرارت شروع کر دے اور انعام سے فائدہ نہ اٹھا سکے اور اپنے انعام کو گندہ کر دے، اس کو پھر کان پکڑ کر ایک طرف کر دیا۔تو مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ﴾ وہ لوگ ہیں جن کے متعلق اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے ” ہم نے جہانوں پر ان کو فضیلت بخشی۔ایسے انعام کئے کہ ساری دنیا پر ان کو فضیلت بخشی۔وہ فضیلت جو قرآن کریم میں آتی ہے ابھی تک یہود میں موجود ہے۔ان کو بڑے بڑے دماغ دئے ، چوٹی کے سائنسدان ، چوٹی کے مفکر، بہترین دنیاوی علوم میں اور اموال پر قبضہ کرنے میں یہ بہترین دماغ رکھتے ہیں۔امریکہ کتنا بڑا ملک ہے اس پر جا کے قبضہ جمالیا۔عملاً امریکہ پر اسرائیل حکومت کر رہا ہے۔کہنے کو امریکہ حکومت کر رہا ہے لیکن وہاں کے سیاستدانوں کی مجال نہیں کہ کوئی ایسا فیصلہ کریں جو اسرائیل نا پسند کرے۔تو یہ ان لوگوں کا حال ہے جن کو قرآن کریم نے فرمایا تھا کہ ”ہم نے تم کو سب جہانوں پر عزت دی۔وہ عزت ابھی تک دنیا کے لحاظ سے سب جہانوں پر ہے لیکن وہی عزت ہے جو آگے مَغضُوب ہونے کی وجہ بن جاتی ہے۔جتنی بڑی ترقی ہوتی ہے اتنازیادہ ان کی حرص بڑھتی جاتی ہے، اتنا زیادہ لوگوں پر قبضہ زیادہ جماتے ہیں۔تعداد تھوڑی ہے اور طاقت تعداد سے بہت بڑھ جاتی ہے۔امریکہ کے آبادی کے مقابلہ پر تھوڑی سی تعداد ہے، معمولی ہے۔مگر جب قبضہ وہ بختی سے جمالیں تو پھر رفتہ رفتہ دلوں میں نفرت پیدا ہونے لگتی ہے، ایک رد عمل شروع ہو جاتا ہے۔اب یہ قرآن ایک کھلی کھلی کتاب ہے۔یہ یہود پڑھتے ہیں لیکن اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ اپنی اصلاح کرلیں۔پھر وہی سختی کرتے ہیں جیسے فلسطینیوں پر ہوتی رہی ہے۔انہوں نے ایک مارا،