اردو کلاس میں تدریس نماز — Page 27
تدريس نماز 27 تھا۔گلی گلی ان پر ظلم ہوتے تھے، ان کو مارا جاتا تھا، ان کی جائیدادیں لوٹی جاتی تھیں اور یہ نیکی کبھی جاتی تھی۔اس سے پہلے ان پر پین میں بھی ظلم ہوا۔خود عیسائی دنیا کے ہاتھوں مظالم ہوئے۔اور آج کل جرمنی کو بدنام کرنے کے لئے وہاں ٹھہر جاتے ہیں۔یہ نہیں بتاتے کہ یہود کی قسمت یہی ہے۔جب سے انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی مخالفت کی ہے اس کے بعد سے آج تک مختلف دور آتے رہے۔اور ہر دور میں یہودیوں پر ظلم ہوئے۔اور انسانوں کے ہاتھوں جو غضب ہوا اس کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ انسانوں کے ہاتھوں تم پر ظلم کئے جائیں گے۔یعنی غضب نازل کیا جائے گا۔اور یہ پیشگوئی اتنی شان سے پوری ہوئی کہ ساری تاریخ گواہ ہے کہ قرآن کا وعدہ سو فیصد سچا نکلا۔اگر بندہ کی بنائی کتاب ہوتی تو یہ باریک فرق نہ پڑتے۔اللہ تعالیٰ نے سورہ فاتحہ میں انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ﴾ کے بعد غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کہہ کر اتنے اعلیٰ طریقہ سے مضمون بیان کر دیا تھا مگر ترجمہ کرنے والوں نے اس کو پھر بگاڑ دیا۔تو دعایہ بنی کہ جو مغضوب بنائے گئے ، جن پر غضب کئے گئے ، ایسے لوگوں کا رستہ نہ دکھا۔اب اس کا یہاں کیا موقع ہے؟ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ﴾ تو کہ دیا تھا ہم نے۔صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ﴾ کا مطلب ہے ہمیں ایسے لوگوں کا رستہ دکھا جن پر تو نے انعام نازل فرمایا۔تو اس میں استثناء کیوں کیا گیا ہے۔اللہ کو تو پتہ ہے نا! کہ کن پر انعام کیا۔تو اُسے سمجھا کیا رہے ہو تم لوگ؟ کہ ان لوگوں کا راستہ نہ دکھا جن پر غضب نازل ہوا۔اس کا کیا مطلب ہے۔کیوں کہ یہود خود بھی انعمت کے اندر آتے ہیں۔کیوں کہ اسلام سے پہلے یہودیوں پر انعام ہوا تھا اور قرآن کریم اس ذکر سے بھرا پڑا ہے۔تو جب ہم انعام والوں کا راستہ مانگتے ہیں، اس میں یہود بھی آتے ہیں تو بات مبہم ہو جائے گی۔انعام والا رستہ ان سب میں قدر مشترک ہے۔سب نبیوں کی قوموں کا راستہ ان کا راستہ ہے جن پر انعام ہوا۔تو یہ کہہ تو دیا کہ اے خدا ہمیں انعام والا رستہ دکھا لیکن جن پر انعام ہوا پھر جب وہ بگڑے تو ان کا رستہ نہ دکھا۔بچوں کو سمجھانے کے لئے مثال دیتے هوئے حضور رحمه الله تعالیٰ نے فرمایا: تم کسی پر انعام کرو، اسے اچھا کھانا کھانے کے لئے دو ہم نے کیا کیا ؟ انعام کیا۔وہ اچھا کھانا