اردو کلاس میں تدریس نماز

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 14 of 46

اردو کلاس میں تدریس نماز — Page 14

تدريس نماز 14۔۔۔۔۔۔ایک ذرہ بھی اپنے پاس نہیں رکھا۔تو قیامت کے دن اللہ دوبارہ کیسے مانگے گا۔یہ مطلب ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ خدا کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مالک ہیں۔کیوں کہ جب ہر چیز اللہ کے حوالہ کر دی، اپنا وجود تک، کچھ نہیں چھوڑا۔قیامت کے دن خدا دوبارہ آپ سے نہیں مانگے گا۔اسی لئے میں نے اختلاف کیا۔کیوں کہ بہت سے مفسرین لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بے ہوش ہوں گے ، موسیٰ علیہ السلام بھی بے ہوش ہوں گے۔یہ غلط ہے۔یہ رسول اللہ پر الزام ہے، یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے ہوں گے۔کیوں کہ جو چیزیں ہوش و حواس میں زندگی میں دے بیٹھے ہوں اللہ دوبارہ کیسے لے سکتا ہے۔إِلَّا مَنْ شَاءَ اللهُ ﴾ میں رسول اللہ ہیں جنہوں نے زندگی میں اپنی ملکیت خدا کے حوالہ کر دی۔ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ نماز میں سب سے مشکل کام ہے۔سب سے بڑ اوجود جس نے واقعہ چیزیں واپس کیس وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق قرآن مجید میں آتا ہے: ﴿ قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ﴾ (الانعام ١٦٣) تو اعلان کر دے کہ میری نماز، میری قربانیاں، میرا جینا مرنا سب کچھ اللہ کا ہو گیا۔یہ اعلان یہاں ہوا ہے۔قیامت کے دن اللہ کیسے دوبارہ مانگے گا کہ مجھے واپس کر دے۔یہ مطلب ہے ملک یوم الدین کا۔اس نقطہ کو اگر کوئی سمجھا ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سمجھے ہیں۔آپ فرماتے ہیں یہ وہ رسول ہے جو ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ زمین پر بنایا گیا ، ہر چیز اس کے سپر د کر دی۔اب جو کچھ کرے گا وہ مالک کے نمائندے کے طور پر کرے گا۔جو مالک چاہتا ہے وہی کرے گا۔اس سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے ہوش نہیں ہوں گے۔کیوں کہ ہوش انہی چیزوں کا نام ہے، جو ہماری طاقتیں ہیں ان کو ہوش کہتے ہیں۔جب ہوش واپس گئی ، سب کچھ واپس چلا گیا۔اس لئے فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمواتِ ﴾ سے مراد ہے کہ پہلا بنگل ایسا ہوگا کہ ہر چیز اپنی ہر طاقت سے محروم کر دی جائے گی کیوں کہ اصل مالک اللہ ہے جو پہلے واپس کر چکے ہوں گے ان سے نہیں مانگے گا۔اردو کلاس نمبر ۳۱۴ - منعقد ۲۲ اکتوبر ۱۹۹۷ء) ( بحواله افضل انٹر نیشنل ۲۸ / مارچ ۲۰۰۳ تا ۳ / اپریل ۲۰۰۳ء) سورۃ فاتحہ شروع ہوتی ہے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ﴾ سے۔اس کے علاوہ پہلی آیت