تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین — Page 88
علامات المقربين ۸۸ اردو ترجمه ويموتون لإحياء قوم كانوا اور وہ ان لوگوں کو زندہ کرنے کے لئے جوموت على شفا الممات، فيبدلون کے کنارے پر کھڑے ہیں خود موت قبول کر لیتے القدر وبالموت يشفعون ہیں۔پس وہ تقدیر بدل دیتے ہیں اور موت کو اختیار کر کے شفاعت کرتے ہیں اور مشقت وبالنَّصَبِ يُريحون، وبالتألم برداشت کر کے راحت پہنچاتے ہیں اور تکلیف اٹھا کرموانست و ملاطفت کرتے ہیں۔يبسئون۔المائرات، ولو جعلت سرمدا إلى يوم المكافات، ولا يواسون خلق الله ويتخونونهم وه خلق اللہ سے ہمدردی کرتے ہیں اور مصائب عند الداهيات، ويعملون عملا کے وقت میں ان کا خیال رکھتے ہیں اور ایسا کام يعجب الملائكة في السماوات کرتے ہیں جو آسمانوں میں فرشتوں کو بھی حیران ويسبقون في الصالحات کر دیتا ہے اور نیکیوں میں سبقت لے جاتے ہیں۔ان کے دلوں میں شجاعت رکھی جاتی ہے پس وتشجـع قـلـوبـهـم فيمشون في وہ ان شدائد میں بھی جن کا سلسلہ روز مکافات (قیامت) تک طویل ہو ہمیشہ رواں دواں رہتے ہیں اور وہ خوفزدہ نہیں ہوتے اور نہ ہی منہ پھٹ يتخوفون۔ولا ينتمون على أحد ہو کر کسی سے بدکلامی کرتے ہیں بلکہ لوگوں کی بقـول سـوء وعند فحش الناس بد گوئی پر سکوت اختیار کرتے اور اپنا غصہ پی جاتے يجمون ويكظمون۔ولا يتمايلون ہیں وہ دنیا کے مُردار کی طرف مائل نہیں على جيفة الدنيا ويتركونها ہوتے اور اسے کتوں کے لئے چھوڑ دیتے ہیں اور للكلاب، ويحسبونها حَفْنَةٌ من اسے محض ہڈیوں کی ایک مٹھی بلکہ مکھیوں کا فضلہ عظام بل ونيم الذباب، فلا يرتد تصور کرتے ہیں ان کی نگاہ اس طرف نہیں اٹھتی طرفهم إليها ولا يلتفتون اور نہ ہی وہ اس کی جانب کوئی توجہ کرتے ہیں۔