تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 46 of 108

تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین — Page 46

تذكرة الشهادتين ۴۶ اردو ترجمه و الرحال للحبيب شدّوا و انہوں نے اپنے محبوب (خدا) کے لئے اپنی سواریوں قطعوا علق الدنيا و فی الله کے کجاوے گس لئے ہیں اور دنیا سے قطع تعلقی اختیار کر لی ہے اور صرف اللہ میں رغبت رکھتے ہیں۔وہ ان يرغبون وما يقعدون كالذين لوگوں کی طرح بیٹھ نہیں رہتے جو آخرت سے مایوس ہو چکے ہوں بلکہ وہ اللہ کی طرف دوڑتے چلے يئسوا من الآخرة و الى الله يهرولون و الذين لا يحطون جاتے ہیں۔وہ اپنی سواریوں سے اترتے نہیں اور نہ الرحال و لايريحون الجمال و ہی اپنے اونٹوں کو آرام کرنے دیتے ہیں۔وہ لوگوں يجتنبون الوبد ولا يركدون۔کی محتاجی سے بچتے ہیں اور کہیں نہیں ٹھہر تے۔ويبيتون لربهم سُجَّدًا وقيامًا وہ اپنے رب کی رضا کی خاطر سجدہ ریز ہوکر اور کھڑے ولايتنعمون والذین ہو کر رات گزارتے ہیں اور آسائش کی زندگی بسر نہیں يضجرون لكشف الحجب و کرتے۔اور وہ جو تمام حجاب دور ہونے اور حق تعالیٰ کا اور رؤية الحق ويسعون کل دیدار کرنے کے لئے بے قرار رہتے ہیں۔وہ پوری السعى لعلهم يُرحمون کوشش کرتے ہیں کہ اُن پر رحم کیا جائے۔وہ اللہ کی ومايحجأون في الله بالنفس نسبت اپنے نفس کو آسودہ نہیں کرتے۔خواہ ان کا خون ولويسفكون وحضأوا بہا دیا جائے۔وہ اپنے نفوس میں محبت الہی کی آگ في نفوسهم نارا فکل آن یوقدون روشن کرتے ہیں اور ہر آن اُسے روشن رکھتے ہیں۔وہ وفا واحكأوا عُقدة الوفاء فهم کی گرہ کو مضبوطی سے باندھتے ہیں اور اس پر قائم عليه ولـويـقـتـلـون اولئك رہتے ہیں خواہ وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں۔یہی الذين رحمهم الله و أراهم لوگ ہیں جن پر اللہ رحم کرتا ہے اور ہر دروازے سے وجهه من كل باب و رزقهم ان پر اپنی چہرہ نمائی کرتا ہے اور انہیں وہاں سے عطا من حيث لا يحتسبون فرماتا ہے جواُن کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوتا۔