تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 36 of 108

تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین — Page 36

تذكرة الشهادتين ۳۶ اردو ترجمه ثم نرجع إلى الأمر الأول ونقول ہم پھر پہلی بات کی طرف لوٹتے اور کہتے ہیں کہ إن قصة نزول إلياس ، ثم قصة الياس کے نزول کا قصہ اور عیسی (علیہ السلام) تأويل عيسى عند الأناس أمر قد کا لوگوں کے سامنے اُس کی تاویل کرنا ایک ایسا اشتهر بين فرق اليهود كلّهم امر ہے جو یہود و نصاری کے تمام فرقوں کے فِرَقِ (۹۳) والنصارى، وما نازع فيه أحد منهم در میان شہرت پاچکا ہے اور اس بارہ میں اُن میں وما بارى، بل لكلّهم فيها اتفاق سے کسی نے بھی کوئی نزاع اور اختلاف نہیں کیا بلکہ من غير اختلاف و شقاق، وما من ان سب کا بغیر کسی اختلاف کے اس پر مکمل اتفاق عالم منهم يجهل هذه القصّة، أو ہے اور اُن کا کوئی عالم ایسا نہیں ہے جسے اس قصے يخفي في قلبه الشك والشبهة کا علم نہ ہو یا اُس کے دل میں کوئی شک وشبہ ہو۔فانظروا أن اليهود مع أنهم كانوا پس غور کرو کہ یہود باوجود اس کے کہ انہوں نے علموا من الأنبياء ، ما جاء عليهم انبیاء سے تعلیم پائی تھی اور ان پر کوئی ایسا زمانہ نہیں زمن إلا كان معهم نبى من حضرة آیا کہ اُن میں حضرت کبریاء کی طرف سے نبی الكبرياء ، ثم مع ذالك جهلوا موجود نہ ہو پھر بھی وہ اس قصے کی حقیقت سے حقيقة هذه القصة، وما فهموا بے خبر رہے اور اس راز کو نہ سمجھ سکے اور اسے السر وحملوها على الحقيقة۔حقیقت پر محمول کر لیا۔ولما جاء هم عيسى لم يجدوا اور جب عیسی اُن کے پاس آیا تو انہوں نے فيه علامة مما كان منقوشا فى اُس میں ایسی علامت نہ پائی جو اُن کے ذہنوں أذهانهم، ومُنقَشًا فى جنانهم ، پر منقش اور اُن کے دلوں پر ثبت تھی نتیجتاً فكفروا به وظنّوا أنه من انہوں نے اس کا انکار کر دیا اور اسے جھوٹوں الكاذبين۔وفعلوا به ما میں سے سمجھا اور اس کے ساتھ جو سلوک کیا سو فعلوا وأدخلوه في المفترین کیا اور اُسے افترا پردازوں میں شامل کر دیا،