تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 28 of 108

تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین — Page 28

90۔تذكرة الشهادتين ۲۸ اردو ترجمه ثم مع ذالك يعترضون پھر بھی وہ باخبر عالم کے اعتراض کرنے کی طرح كاعتراض العليم الخبير ، فلا اعتراض کرتے ہیں۔ہم نہیں جانتے کہ ان کا کیا نعلم ما بالهم وأى شيء أصبرهم حال ہے؟ اور کس چیز نے ان کو بھڑ کنے والی آگ على السعير ؟ لا يشبعون من برداشت کرنے کی طاقت دی۔وہ دنیا سے سیر الدنيا وفي قلبهم لها أسيس ، مع نہیں ہوتے اور اُن کے دل میں اُس کی محبت جاگزین أن حظهـم مـن الدين خسیس ہے اور اس کے ساتھ ہی اُن کا دین سے بہت کم حصہ قرءون غَيْرِ الْمَغْضُود ہے۔وہ غیر المغضوب علیھم پڑھتے ہیں عليهم ثم يسلكون مسلك عمر رحمن کی ناراضگی کی راہ پر چلتے ہیں گویا انہوں نے سخط الرحمان، كأنّهم آلوا أن یہ قسم کھا رکھی ہے کہ وہ جزا دینے والے (خدا) کی لا يطيعوا من جاء هم من الديان۔طرف سے آنے والے کی اطاعت نہیں کریں گے۔ولم أزل أتأوه لـكـفـرهم بالحق الذي أتى، ثم يُكفّرونني من اور میں اُن کے پاس آنے والے حق کے انکار پر آہیں بھرتا ہوں اور وہ اندھے پن کے باعث مجھے العمى، فيا للعجب! ما هذا کا فرقرار دیتے ہیں۔وائے تعجب یہ کیسی عقل ہے؟ النهي؟ والـلـه هـو القاضي وهو اللہ ہی فیصلہ کرنے والا ہے اور وہ میرے دکھ اور غم کی یری امتعاضی و حرار تماضی۔سوزش کو خوب جانتا ہے۔وہ اپنے رب سے میری بیخ کنی يدعون ربهم لاستيصالي، وما کی دعا مانگتے ہیں اور جو میرے دل میں ہے يعلمون ما في قلبي وبالي، وما اُسے وہ نہیں جانتے۔اور اُن کی دعا اندھی اونٹنی کے دعاؤهم إلا كخبط عشواء ، فيُرَدُّ عليهم ما يبغون على قدم مارنے کی طرح ہے۔پس وہ جو میرے لئے من دائرة و من بلاء۔أيستجاب آفت اور مصیبت چاہتے ہیں انہیں پر لوٹا دی جائے دعاؤهم في أمر شجرة طيبة گی۔کیا ان کی دعا ایک ایسے شجرہ طیبہ کے متعلق غُرست بأيدى الرحمن قبول ہو سکتی ہے جو رحمن کے ہاتھ سے لگایا گیا ہے۔الفاتحة 2