تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 108

تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین — Page 27

تذكرة الشهادتين ۲۷ اردو ترجمه يلعنونه بالقلب القاسي، ذالك وہ اُس (صادق) پر سنگدلی سے لعنت بھیجتے ہیں۔أجرهم للمواسي۔يُحبّون أن یہ وہ صلہ ہے جو وہ اُس ہمدردی کرنے والے کو يكرموا عند الملوك بالمدارج دے رہے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ بادشاہوں کے العلية، وقد أُمروا أن يرفضوا ہاں بڑے بڑے مناصب سے عزت دیئے جائیں، حالانکہ اُن کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ اس کمینی دنیا کے تعلقات کر مستردکردیں اور روشن دین کے علائق الدنيا الدنية ، وينفضوا عوائق الملة البهية۔يجفلون رستے میں حائل روکوں کو دور کر دیں۔وہ خواہشات نحو الأماني إجفال النعامة ، کی طرف شتر مرغ کی سی تیزی سے دوڑتے ہیں وألقوا فيها عصا الإقامة۔قد أُمروا اور ان ( خواہشات ) کوانہوں نے اپنی قیام گاہ بنا أن يمروا على الدنيا كعابر لیا ہے انہیں حکم تو یہ دیا گیا تھا کہ وہ دنیا سے مسافر کی سبيل، ويجعلوا أنفسهم كغريب طرح گزریں اور اپنے آپ کو ایک غریب الوطن ذليل، فاليوم تراهم يبتغون العزة | عاجز کی مانند رکھیں لیکن تو آج انہیں دیکھتا ہے کہ الحكام، وما العزة إلا من وہ حکام کے حضور عزت کے خواہشمند ہیں الله العلام، وبينما نحن نُذكر حالانکہ حقیقی عزت تو علام خدا کی جناب سے ملتی ہے۔اور جب ہم لوگوں کو رحمان کے دن ( اللہ کی نعمتوں اور عذاب کے دن) یاد دلاتے ہیں اور الناس أيام الرحمان، ونجذبهم إلى الله من الشيطان، إذ رأيناهم انہیں شیطان سے اللہ کی جانب کھینچتے ہیں تو يصولون علينا كصول السرحان، اچانک ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بھیڑیئے کی طرح ہم بخوفوننا بفحيحهم كالثعبان پر حملہ کر دیتے ہیں اور سانپ کی طرح ہمیں اپنی وما حضر واقط نادینا پُھنکار سے خوفزدہ کرتے ہیں۔وہ کبھی بھی ہماری بصحة النية وصدق الطوية | مجلس میں صحیح نیت اور بچے ارادے سے نہیں آئے