تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین — Page 25
تذكرة الشهادتين ۲۵ اردو ترجمه وما كان إسلامهم إلا رسوم اور ان کا اسلام محض چند رسوم ہیں جنہیں انہوں نے أخذوها عن الآباء ، من غير بصيرة بصیرت، معرفت اور آسمان سے نازل ہونے والی ومعرفة وسكينة تنزل من السماء۔سکینیت کے بغیر اپنے آباء سے اخذ کیا ہے۔فبعثني ربّى ليجعلني دليلا على پس میرے رب نے مجھے مبعوث فرمایا تا کہ وہ وجوده، وليصيرني أزهر الزهر اپنی ہستی پر مجھے دلیل ٹھہرائے اور مجھے اپنے لطف من رياض لطفه وجوده، فجئتُ وجود کے باغ کا ایک شگفتہ خوش رو پھول بنائے۔پس میں آیا اور میرے ذریعہ سے اُس کی راہ ظاہر ہو وقد ظهر بی سبیله، واتضح گئی اور اس کی راہنمائی واضح ہوگئی۔اور مجھے اس کے دليله وعلمت مجاهله و وردت گمنام گوشے معلوم ہو گئے اور میں نے اس کے گھاٹوں مناهله۔إنّ السماوات والأرض كانتا رتقا ففتقتا بقدومي، وعُلّم الطلباء بعلومي، فأنا الباب للدخول فى الهدى، وأنا النور پر ورود کیا۔یقیناً آسمان اور زمین بند تھے لیکن میرے آنے سے وہ کھول دیئے گئے اور طلباء کو میرے علوم کے ذریعہ سکھایا گیا۔پس میں ہدایت میں داخل ہونے کا دروازہ ہوں، اور میں وہ نور ہوں جو راہ الذي يُرى ولا يُرى، وإنّي من دکھاتا ہے اور خود دکھائی نہیں دیتا۔میں رحمان کی أكبـر نـعـمـاء الرحمان، وأعظم سب سے بڑی نعمتوں میں سے ایک ہوں اور عطا آلاء الديـــان۔رُزقت من کرنے والے والے خدا کی عظیم ترین نعمتوں میں ظواهر الملة وخوافيها ، سے ایک ہوں۔مجھے دین کے ظاہری اور باطنی علوم وأُعطيت علم الصحف دیے گئے ہیں اور مجھے صُحُفِ مُطھرہ اور جو ان میں المطهرة وما فيها، وليس أحد ہے کا علم دیا گیا ہے۔اُس شخص سے زیادہ بد بخت أشقى من الذي يجهل ،مقامی اور کوئی نہیں جو میرے مقام سے بے خبر ہے اور ويُعرض عن دعـوتـي وطعامی میری دعوت اور میرے کھانے سے منہ موڑتا ہے۔۸۹