تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 24 of 108

تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین — Page 24

تذكرة الشهادتين ۲۴ اردو ترجمه وأنـــى لهـــم ذالك وإنهم اور یہ کیفیت انہیں کہاں نصیب ہوسکتی ہے جبکہ وہ يؤثرون الضحك والاستهزاء خشیت و گریہ وزاری کی بجائے ہنسی اور استہزاء کو على الخشية والبكاء ، وكذبوا اختیار کرتے ہیں اور شدید تکذیب کرتے ہیں۔اُن كذَّابًا، ويُنادون من بعيد فلا کو دور سے پکارا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں پکار کا يقرع أذنهم حرف من النداء ، ایک حرف بھی اُن کے کانوں سے نہیں ٹکراتا۔اور وہ لا يرون إلى مصائب صُبّت على أن مصائب کو نہیں دیکھتے جو ملت پر وارد ہیں، الملة، وإلى جروح نالت الدین اور نہ ان زخموں کو جو دین کو کافروں کے ہاتھوں پہنچے من الكفرة، وإن مثل الإسلام في ہیں۔ان ایام میں اسلام کی حالت اُس شخص کی هذه الأيام كمثل رجل كان طرح ہے جوسب مردوں سے بڑھ کر خوبصورت، أجمل الرجال وأقواهم، وأحسن قوى حسين، اور خوبرو تھا پھر زمانے کی گردش نے النّاس وأبهاهم، فرمی تقلب بکثرت رونے کے سبب اس کی آنکھوں کو کمزور الزمان جفنه بالعمش ، وخدہ کر دیا اور اُس کے رخسار پر چھائیاں ڈال دیں۔بالنمش ، وأزالت شنب أسنانه اور دانتوں پر جمی ہوئی زردی اور دانتوں کو بدنما قلوحة علّتها، وعِلَةٌ قبحتها، بنا دینے والی بیماری نے اس کے دانتوں کی سفیدی فأراد الله أن يمن على هذا کو زائل کر دیا۔پس اللہ نے ارادہ فرمایا کہ وہ اس الزمان، بردّ جمال الإسلام زمانہ پر اس رنگ میں اپنا کرم فرمائے کہ اسلام کا إليه والحسن واللمعان۔وكان حسن و جمال اور اُس کی چمک دمک اُس کے پاس النّاس ما بقى فيهم روح واپس لوٹ آئے۔اور لوگوں میں مخلصین کی روح المخلصين، ولا صدق الصالحين، باقی نہ رہی تھی نہ صالحین کا صدق اور نہ ہی انقطاع ولا محبة المنقطعين، وأفرطوا الی اللہ کرنے والوں جیسی محبت۔انہوں نے افراط و وفرطوا وصاروا كالدهرتين، تفریط سے کام لیا اور دہریوں کی مانند ہو گئے