تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات — Page 28
پیشکش کا تعلق ہے تو سنو کہ مجھے تمہاری حفاظت کی ضرورت نہیں۔خدا تعالیٰ کے فرشتے میری اور میرے گھر کی حفاظت کریں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔مختلف اتنے مرعوب ہوئے کہ کسی کو حملہ کرنے کی جرات نہ ہو سکی۔۲۰ حضرت مولوی محمد الیاس صاحب مرحوم نے بیان فرمایا کہ چار سدہ میں تین اشخاص نے احمدیت کی وجہ سے ان کی شدید مخالفت کی۔اللہ تعالیٰ کی عجیب شان کہ یہ تینوں خدا تعالیٰ کے قبر کے نیچے آکر رسوا ہوئے۔ان واقعات کی تفصیل بہت دردناک مگر ایک پہلو سے بہت ایمان افروز ہے۔آپ کا ایک دشمن ملا محمود تھا جو اپنے تعویذوں کے ذریعہ یہ کوشش کیا کرتا تھا کہ آپ کی بیوی آپ سے متنفر ہو جائے اور چھوڑ کر چلی جائے۔اس کا اپنا انجام یہ ہوا کہ وہ اپنی ایک رشتہ دار عورت کے ساتھ بدنام ہوا اور گھر سے ایسا بھا گا کہ پھر کبھی اپنے گھر کا رخ نہ کیا۔دوسرا دشمن اکبر شاہ تھا جو زبر دست تیراک تھا اور کہا کرتا تھا کہ محمد الیاس جب دریا پر نہانے آئے گا تو میں اسے دریا میں غرق کر دوں گا۔اللہ تعالیٰ کی شان کہ وہ خود دریا میں نہاتے ہوئے ڈوب کر ہلاک ہو گیا۔تیسرے معاند کی داستان عبرت اس طرح ہے کہ مکرم خان چار سدہ کا ایک بااثر زمیندار اور نمبردار تھا اس نے سوشل بائیکاٹ کے ذریعہ ظلم کی انتہا کر دی۔اس پر خدا تعالیٰ کی گرفت اس رنگ میں آئی کہ پہلے اس کی بیوی تپ دق سے فوت ہوئی، پھر تین بیٹے یکے بعد دیگرے اس بیماری سے اس کی نظروں کے سامنے رخصت ہوئے۔جائیداد جوئے میں کٹ گئی۔نمبرداری بھی جاتی رہی اور اتنا تنگ دست ہوا کہ بلآخر تانگہ چلا کر گزر اوقات کرنے لگا۔ایک روز عجیب واقعہ ہوا کہ حضرت مولوی صاحب ایک تانگے میں سوار ہوئے اور تانگے والے سے چار سدہ کے لوگوں کا حال ایک ایک کر کے پوچھنے لگے۔مکرم خان کا حال دریافت کیا تو تانگے والے نے جو نیچے پائیدان پر بیٹھا ہوا تھا نظر