تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات

by Other Authors

Page 25 of 65

تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات — Page 25

۲۵ تعالیٰ نے اپنی تائید خاص کا یہ کرشمہ دکھایا کہ جو نہی نماز ختم ہوئی اور آپ نے سلام پھیرا تو کیا دیکھا کہ ایک نوجوان آگے بڑھا اور نہایت محبت سے مصافحہ کیا اور کہا کہ میں آج کا نہ پر مناظرہ سن کر احمدیت قبول کرتا ہوں میری بیعت لی جائے! میرے والد محترم بیان فرمایا کرتے تھے کہ نوجوان کی یہ بات سن کر وفور جذبات سے میں آبدیدہ ہو گیا۔اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کو دیکھ کر میرا سر اس کے آستانہ ! جھک گیا۔اس نوجوان نے جو قریبی گاؤں میں مدرس تھا اپنے فیصلہ کی وجہ یہ بتائی کہ وہ غیر احمدیوں کے اسٹیج پر بیٹھا دوران مناظرہ غیر احمدی علماء کی سب باتیں سن رہا تھا۔وہ بر ملا اعتراف کر رہے تھے کہ احمدی مناظر کی باتیں اتنی پختہ اور وزنی ہیں کہ ہمارے پاس ان کا کوئی ٹھوس جواب نہیں۔مناظرہ جیتنے کی اب ایک ہی صورت ہے کہ احمدی مناظر کو آخری تقریر نہ کرنے دی جائے اور تالیاں بجا کر مناظرہ ختم کر دیا جائے۔اس نوجوان نے کہا کہ ” میں نے جو کچھ دیکھا اور جو کچھ سنا وہ مجھے احمدی بنانے کے لئے کافی ہے " چنانچہ وہ اسی وقت حلقہ بگوش احمدیت ہو گیا ! سے ! چند سال پہلے کی بات ہے کہ برطانیہ میں نارتھ ویلز کے علاقہ میں ایک نوجوان طاہر سلیم صاحب کو بیعت کرنے کی توفیق ملی۔اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے فضل سے یہ توفیق بھی دی کہ انہوں نے دیگر افراد خاندان کو بھر پور تبلیغ کی جس کے نتیجہ میں ان کے خاندان کے دس ، گیارہ افراد نے بھی تھوڑے عرصہ کے اندر اندر بیعت کرلی۔اس پر علاقہ کے غیر احمدی حلقوں میں ایک مخالفانہ جوش پیدا ہوا اور سعید نامی ایک شخص کو جو ختم نبوت کمیٹی کا سیکرٹری تھا اس کام پر مامور کیا گیا کہ وہ ہمارے احمدی نوجوان طاہر سلیم کو دوبارہ غیر احمدی بنالے۔چنانچہ ان دونوں میں باہم تبلیغی بات چیت کا سلسلہ چل نکلا۔ایک لمبے عرصہ کی گفت و شنید کا نتیجہ یہ نکلا کہ سعید صاحب جو احمدی دوست کو