تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات

by Other Authors

Page 17 of 65

تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات — Page 17

میدان تبلیغ میں اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت اس رنگ میں بھی ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ خود معلم بن کر ایسا جواب اور طرز استدلال سمجھا دیتا ہے کہ مخالف دم بخود رہ جاتا ہے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں اسکی ایک شاندار مثال ۱۸۹۳ء میں ظاہر ہوئی جبکہ امرتسر میں آپ کا عیسائی پادری عبد اللہ آتھم سے کئی روز مناظرہ ہوتا رہا۔آخری روز اس نے اپنی طرف سے ایک عجیب چل چلی۔ایک اندھے، ایک لنگڑے اور ایک گونگے شخص کو سامنے پیش کر کے اچانک حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ آپ مسیح موعود ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔بیجئے یہ بیمار موجود ہیں۔مسیح کی طرح ان کو ہاتھ لگا کر اچھا کر دکھائیں! حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سب حیران تھے کہ دیکھئے اب حضرت صاحب اس کا کیا جواب دیتے ہیں۔حضرت صاحب نے جواباً فرمایا کہ میں تو اس بات کو نہیں مانتا کہ حضرت مسیح علیہ السلام اس طرح ہاتھ لگا کر اندھوں لنگڑوں اور بہروں کو اچھا کر دیا کرتے تھے اس لئے مجھ سے تمہارا یہ مطالبہ کرنا کچھ حجت نہیں رکھتا۔ہاں البتہ آپ لوگ مسیح کے معجزے اس رنگ میں تسلیم کرتے ہیں اور آپ کی بائیبل ہمیں ایمان داروں کی یہ علامت بھی لکھی ہے کہ وہ مریضوں پر ہاتھ رکھیں گے تو وہ صحت یاب ہو جائیں گے علاوہ ازیں آپ کا یہ بھی ایمان ہے کہ جس شخص میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا وہ اگر پہاڑ کو کہے کہ یہاں سے چلا جا تو وہ چلا جائے گا۔حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے بڑے جلال سے فرمایا کہ میں اس وقت پہاڑ کی نقل مکانی کا تو آپ سے مطالبہ نہیں کرتا البتہ آپ کا بڑا شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے ان بیماروں کی تلاش سے بچالیا۔اب آپ ہی کے لائے ہوئے یہ بیمار آپ کے سامنے پیش نہیں۔اگر آپ میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان ہے تو مسیح کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اور اپنے ایمان کا ثبوت دیتے ہوئے ان کو اچھا کر دکھا ئیں۔حضرت میر صاحب بیان کرتے ہیں کہ