تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات

by Other Authors

Page 50 of 65

تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات — Page 50

سید نا حضرت خلیفة المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔أدعُ إِلى سَبِيلِ رَبِّكَ میں محض اللہ تعالیٰ کی طرف بلا نا مراد نہیں بلکہ حضرت محمد مصطفی ﷺ پر جس شان سے خدا تعالیٰ ظاہر ہو ا تھا اس تمام شان کی طرف بنی نوع انسان کو بلانا مقصود ہے اور وہ خدا ایسا ہے جو رب العالمین ہے۔اس سلسلہ میں دس اہم امور حسب ذیل ہیں:۔ا۔پیغام تمام مومنوں کیلئے ہے:۔یہاں مخاطب صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا گیا ہے۔اگر چہ پیغام تمام قبول کرنے والوں کیلئے ہے۔یہ تو نہیں فرمایا کہ اے محمد تو اکیلا نکل جا اور تبلیغ شروع کر دے اور تیرا کوئی ساتھی تیرے ساتھ نہ چلے آنحضرت کو مخاطب کیا گیا لیکن پیغام تمام مومنوں کیلئے ہے۔بالحكمته والموعظته الحسنه حكمت کے معنی حکمت کے تقاضے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ سب سے پہلے ہمیں تاریخ پر نظر ڈالنی چاہئے اور تاریخی واقعات کی روشنی میں یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ اس دشمن کا علاج اتنی بڑھی ہوئی محبت اور حد سے زیادہ تلطف سے ہم دیں گے تب ہماری بات مانی جائے گی ورنہ نہیں مانی جائے گی۔۲۔موقعہ اور محل کے مطابق:۔حکمت کا دوسر ا تقاضا جسے عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے وہ ہے موقعہ اور محل کے مطابق بات کرنا ہر بات اپنے موقعہ پر اچھی لگتی ہے ایک آدمی کو اپنے کام میں جلدی ہے یا خیالات میں افرا تفری ہے۔اور آپ اس کو پیغام دینا شروع کر دیں تو یہ بات موقعہ اور محل کے مطابق نہیں ہے۔جب نفرت ہو تو اچھی چیز بھی پیش کی جائے تو انسان اس کو پسند نہیں کرتا۔تو جب تک پیش کرنے کا طریقہ اتنا اچھا نہ ہو کہ وہ اس نفرت پر غالب آجائے اس وقت تک تبلیغ کارگر