تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات — Page 30
i سکوں اور اس فتنہ سے بچار ہوں۔خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔اس کے جلال اور جبروت کے آگے بڑے سے بڑے انسان کا تکبر اور غرور پاش پاش ہو جاتا ہے۔یہی انجام اس متکبر مخالف حق کا ہوا۔جس انجام کی اس نے تمنا کی تھی بالکل وہی اس کا نصیب بن گیا۔چند مہینوں کے اندر اندر اس شخص نے منہ مانگی سزا پالی۔اس کا دماغی توازن بگڑ گیا اور اس کی حالت اتنی غیر ہوئی کہ دیکھی نہ جاتی تھی۔قریباً اڑ ہائی سال تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلاء رہنے کے بعد انتہائی عبرتناک حالت میں اس جہان سے چل بسا۔۲۴ دوست اللہ تعالی کی تائید و نصرت اور اس کی قمری تجلی کا اس سے بھی زیادہ دلدوز واقعہ سنگاپور میں ہوا۔وہاں کے ایک مخلص احمدی دوست مکرم محمد علی صاحب بیان کرتے ں کہ وہ اور حضرت مولانا غلام حسین صاحب ایاز مرحوم ضلع ہزارہ کے ایک پٹھان ہیں کے چھوٹے سے ہوٹل پر کھانا کھایا کرتے تھے۔ایک روز جب اسے ہمارے احمدی ہونے کا پتہ لگا تو یہ شخص آپے سے باہر ہو گیا اور سخت بد زبانی کرتے ہوئے ہمیں اپنی دوکان سے نکال دیا۔اس پر بھی اس کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا تو اس نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف نہایت گھٹیا زبان استعمال کی، کاذب و دجال کہا اور کہا کہ ان کی وفات نعوذ باللہ بیت الخلاء میں ہوئی تھی۔سید نا حضرت مسیح موعود" سے اللہ تعالی کا وعدہ تھا کہ «إني مهين من أراد إهانتك» یعنی جو بھی تیری بے عزتی کے درپے ہو گا وہ خود ذلیل ورسوا کیا جائے گا۔اس بد زبان س کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنے اس وعدہ کو کیسے پورا کیا؟۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ چند سال کے اندر اندر یہ شخص اللہ تعالی کی شدید گرفت میں آگیا۔اور جس قسم کی