تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات — Page 5
عملاً اسی کو اپنا سردار تسلیم کر لیا۔انصار مدینہ کی فدائیت اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کا زندہ ثبوت بن کر ابھری۔میدان بدر کے ایک خیمہ میں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی متفرعانہ دعاؤں نے میدان جنگ کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔مٹھی بھر کنکروں نے آندھی کی صورت اختیار کر لی اور ۳۱۳ صحابہ نے ایک ہزار کے مسلح لشکر کو ایسی عبرتناک شکست دی کہ دنیا آج تک محو حیرت ہے۔احد کے میدان کی بات ہو یا غزوہ احزاب کی، اجتماعی مقابلہ کی صورت ہو یا انفرادی مقابلہ کی، ہر موقع پر خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت آپ کے ساتھ قدم بہ قدم چلتی دکھائی دیتی ہے۔ایک موقع پر آپ کو اکیلا پا کر ایک دشمن آپ پر حملہ آور ہوالیکن آپ کی پر شوکت آواز سن کر تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور وہ تھر تھر کانپتا ہوا آپ کے قدموں میں گر پڑا۔ایک مظلوم کا حق دلانے کی خاطر جب ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ابو جہل کے مکان پر گئے تو شدید ترین معاند اسلام نے، جو اپنی مجالس میں اپنی جرات اور بے باکی پر اترایا کرتا تھا، فور اس مظلوم کا حق ادا کر دیا۔خدا تعالیٰ نے اپنی تائید و نصرت کا کرشمہ دکھایا کہ اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں دو لونٹ دکھائی دئے جو اس پر حملہ کرنے کو تیار تھے۔ایک یہودی عورت نے آپ کے کھانے میں زہر ملایا تو علیم و خبیر خدا نے آپ کو اس کی اطلاع کر دی اور اس کے شر سے محفوظ رکھا۔اس مقدس وجود کو جو نہایت کسمپرسی کی حالت میں مکہ سے نکلا تھا، زمین و آسمان کے مالک، قادر و توانا خدا نے ایک فاتح کی حیثیت میں دوبارہ مکہ میں واپس لا کر اپنی تائید و نصرت کا ایک عظیم جلوہ دکھایا۔حجتہ الوداع کے موقع پر لاکھوں صحابہ کا اجتماع کس قدر ایمان افروز تھا۔وہ جو ابتدا میں اکیلا تھا خدائی تائید و نصرت نے اسے لاکھوں جلنگروں کا محبوب ترین آقا بنا دیا۔کس کس بات کا ذکر کیا جائے۔حق یہ ہے کہ ہمارے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت اور غیر معمولی اعانت کے سایہ میں گزرا بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ آپ کی حیات طیبہ میں تائید