تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات

by Other Authors

Page 29 of 65

تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات — Page 29

۲۹ اٹھا کر اوپر دیکھا اور ڈبڈبائی آنکھوں کے ساتھ کہنے لگا کہ میں ہی وہ بد بخت ہوں جس نے حق کی مخالفت کر کے دین و دنیا دونوں کو اپنے ہاتھوں سے گنوا دیا۔۲۱ اللہ تعالی کی گرفت اور اس کی قبری تجلی کا یہ سلوک انہی لوگوں سے ہوتا ہے جو اپنی بداعمالیوں کے سبب اپنے آپ کو اس کا مستحق بنا لیتے ہیں۔خاص طور پر وہ لوگ جو اپنی بد بختی میں اتنا آگے بڑھ جاتے ہیں کہ حق کے مقابل پر تکبر اور خدا کے پیاروں کی اہانت کی راہ اختیار کر لیتے ہیں۔ایسے بدنصیبوں پر خدائی پکڑ بڑی شدت اور سرعت سے نازل ہوتی ہے اور ان کا وجود دوسروں کے لئے نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے حضرت مولانا نذیر احمد صاحب علی مرحوم و مغفور نے مغربی افریقہ میں اسلام اور احمدیت کی جو گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں وہ تاریخ احمدیت کا ایک زریں باب ہیں۔آپ بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۳۸ء میں سیرالیون مسلم کانگرس نے ایک جلسہ عام میں ان کا خطاب کروایا جس کی صدارت ملک کی ایک معروف شخصیت شیخ حیدر الدین نے کی۔انہیں جے پی اور ایم۔بی۔اسی کے اعزازات مل چکے تھے اور ملک کا ہر طبقہ ان کا لوہا مانتا تھا۔مولانا موصوف کے نہایت موثر خطاب کے بعد شیخ حیدر الدین نے اپنے صدارتی ریمارکس میں بڑے تکبر سے کہا۔سامعین! میں آپ سب سے زیادہ عالم ہوں اور دینی علوم میں ید طولی رکھتا ہوں۔میرے نزدیک اس انڈین حاجی کی باتیں اور دلائل محض متمع سازی اور جھوٹ کا پلندہ ہیں تکبیر کی انتہا کرتے ہوئے اس شخص نے اس حد تک کہہ دیا میں تو اس کے جھوٹے مسیح کو ماننے کی نسبت یہ پسند کروں گا کہ میرا دماغ کام کرنا چھوڑ دے تاکہ اس انڈین مشنری کی باتوں پر غور ہی نہ کر