تبلیغِ ہدایت — Page 195
روح کو جلا کر بھسم کر ڈالے گی وہ کس طرح گناہ کی طرف قدم اُٹھا سکتا ہے؟ پس آپ نے لکھا کہ اگر گناہ سے بچنا چاہو تو اس کا یہی علاج ہے کہ ایمان اور یقین پیدا کرو۔کیونکہ اس کے بغیر گناہ سے رہائی نہیں ہو سکتی۔اب ناظرین سمجھ گئے ہونگے کہ حقیقی ایمان جو خدا کے نزدیک سچا ایمان ہے اُس میں اور رسمی ایمان میں کتنا فرق ہے۔ایک شخص مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوتا ہے اور بچپن سے اللہ کا نام اس کے کانوں میں پڑنا شروع ہوتا ہے۔پس اس کا یہ لازمی نتیجہ ہوگا کہ وہ اس نام کو سیکھ لے گا اور اُس کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے گا اور بعض اوقات اس کے لئے غیرت بھی دکھائے گا اور اس کے دل پر اس نام کا رُعب بھی ہوگا جو ممکن ہے کبھی اُسے گناہ سے خوف بھی دلائے یا کبھی اُس کے دل میں نیکی کی رغبت بھی پیدا کر دے۔مگر خوب سوچ لو کہ یہ ایمان حقیقی ایمان نہیں ہے بلکہ محض رسمی ایمان ہے کیونکہ یہ وابستگی اور یہ غیرت اور یہ رعب اور یہ خوف اور یہ رغبت اس کے دل میں ایک مستقل جذبہ کے طور پر قائم نہیں ہوتی جو علی وجہ البصیرت پیدا ہوا ہو بلکہ صرف گرد و پیش کے حالات کے ماتحت محض رسمی طور پر یہ کیفیات کبھی کبھی ایک مدھم روشنی کی طرح اپنی تجلی ظاہر کر جاتی ہیں۔اس سے زیادہ کچھ نہیں۔اس حالت سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایسے شخص کا دل ابھی مردہ نہیں ہوا۔مگر اس کو زندہ بھی نہیں کہہ سکتے۔لہذا وہ حقیقی معنوں میں ایماندار کہلانے کا حقدار نہیں۔ہاں ایسا شخص ایمان کی صلاحیت ضرور رکھتا ہے اور اُس میں وہ مادہ ضرور موجود ہے جس سے ایمان حاشیہ صفحہ سابقہ:۔وہ عام حالات میں گناہ سے محفوظ ہوتا ہے۔اور دوسری طرف یہ بات بھی درست ہے کہ کبھی شاذ کے طور پر ایک سچا مومن بھی لغزش کھا سکتا ہے مگر یہ لغزش عارضی ہوتی ہے جس کے بعد وہ فورا سنبھل جاتا ہے اس تشریح کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان دو اقوال میں کوئی تضاد نہیں رہتا کہ ایک طرف تو آپ نے یہ فرمایا کہ لایزنی الزانى و هو مومن ولا يسرق و هو مومن یعنی ” کوئی زانی اس حالت میں زنا نہیں کرتا کہ وہ مومن ہو اور کوئی چوراس حالت میں چوری نہیں کرتا کہ وہ مومن ہو۔اور دوسری طرف آپ فرماتے ہیں کہ ان زنى وإن سرق یعنی ” ایک مومن خدا کی مغفرت حاصل کر سکتا ہے باوجود اس کے کہ وہ کبھی زنا یا چوری کی لغزش میں بھی مبتلا ہو جائے“۔کیونکہ پہلی حالت میں تو اصل اور مستقل حالت کی طرف اشارہ ہے اور دوسری حالت میں وہ عارضی لغزش بتائی گئی ہے جو کبھی کسی وقتی ظلمت کے نیچے ایک مومن پر بھی آسکتی ہے مگر اس کے بعد ایک سچا مومن ہوشیار ہوکر فورا استنجل جاتا ہے۔فافهم وتدبّر۔195