تبلیغِ ہدایت — Page 147
جس میں انسانی منصوبوں کا احتمال بھی متصور نہ ہو سکے اور دس ہزار روپے کا نقد انعام بھی ساتھ تھا اور پھر اُن کے خیال کے مطابق پنڈت لیکھرام کے قاتل کی لاش بھی اُن کے ہاتھ آتی تھی۔پھر کیا وجہ ہے کہ آریہ صاحبان نے اسے قبول نہ کیا اور بے ہودہ حیلہ و حجت میں موقعہ ٹال دیا ؟ یہ باتیں پورا یقین دلاتی ہیں کہ دراصل آریوں کو یہ ڈر تھا کہ لیکھرام صاحب تو خیر جاچکے کہیں کوئی اور بزرگ بھی نہ چلتا ہو کیونکہ اُن کے دل محسوس کرتے تھے کہ حضرت مرزا صاحب کی نصرت میں خدا کا ہاتھ ہے۔پنڈت لیکھرام کے قتل کے بعد آریوں کو دو موقعے ایسے ہاتھ آئے جن میں وہ حضرت مرزا صاحب کے خلاف کوئی عملی کا رروائی کر سکتے تھے اور دونوں سے انہوں نے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔پہلا موقعہ تو اقدام قتل کے اس مقدمہ کا تھا جو مسیحیوں نے حضرت مرزا صاحب کے خلاف دائر کیا اور جس میں بعض آریہ وکیلوں نے مسیحیوں کی طرف سے مفت مقدمہ کی پیروی کی اور ویسے بھی آریہ لوگ ہر طرح اُن کے ظہیر و مددگار ہوئے۔دوسرا موقعہ وہ تھا کہ مولوی کرم دین جہلمی کی طرف سے ایک فوجداری مقدمه نه ۶-۱۹۰۳ ء میں حضرت مرزا صاحب کے خلاف دائر کیا گیا تھا جس کی یکے بعد دیگرے دو ہندو مجسٹریٹوں کی عدالت میں سماعت ہوئی تھی۔اس میں آریوں نے اپنے مجسٹریٹوں کے خوب کان بھرے۔چنانچہ علاوہ اور قرائن کے اُن کے بدلے ہوئے تیور بھی ساری کہانی کہے دیتے تھے۔پھر مختصر یہ کہ پہلا مجسٹریٹ ای۔اے سی سے منصفی کی طرف تنزل پا کر گورداسپور سے تبدیل ہو گیا اور دوسرے نے جو اس کا قائم مقام ہو کر آیا تھا اپنے دو جوان بیٹوں کا داغ جدائی دیکھا مگر جب اس نے باوجود اپنی بیوی کی مندرخواب کے جو اُس نے انہی دنوں دیکھی تھی حضرت مرزا صاحب پر پانچسور و پیہ جرمانہ کر دیا تو اپیل کرنے پر عدالت عالیہ نے اس فیصلہ پر سخت اظہار ناراضگی کیا اور جرمانہ منسوخ کر کے روپیہ واپس دلایا اور حضرت مرزا صاحب اس خدائی بشارت کے مطابق جو پہلے سے بذریعہ اخبارات شائع کر دی گئی تھی عزت کے ساتھ بری کر دیئے گئے اور آریہ صاحبان دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے۔( دیکھو الحکم و بدر وحقیقة الوحی) اس مضمون کو ختم کرنے سے پہلے قادیان کے آریوں کا تھوڑا سا ذکر کر دینا مناسب معلوم 147