تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 128 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 128

اور مسیحیت کی حمایت میں اپنے دجل کا جھنڈا بلند کیا اور کہا کہ میں مسیح ناصری کا رسول ہوں اور مسیح کے عنقریب آنے کی بشارت لے کر آیا ہوں اور کہا کہ میرا یہ بھی کام ہے کہ میں اسلام کو نیست و نابود کروں۔یہ شخص پرلے درجہ کا دشمن اسلام تھا اور عیسائیت کی محبت میں گو یا محو تھا اور اس کی تائید میں ایک اخبار بھی نکالا کرتا تھا جس کا نام لیوز آف ہیلنگ تھا ( leaves of healing)۔اس نے اپنے اس اخبار میں شائع کیا کہ اگر میں سچا نبی نہیں ہوں تو پھر روئے زمین پر کوئی ایسا شخص نہیں جو خدا کا نبی ہو۔نیز لکھا کہ ”میں خدا سے دُعا کرتا ہوں کہ وہ دن جلد آوے کہ اسلام دنیا سے نابود ہو جاوے۔اے خدا تو ایسا ہی کر۔اے خدا تو اسلام کو ہلاک کر دئے“۔اور یہ شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی سخت گالیاں دیا کرتا تھا۔غرض تمام مسیحی دنیا میں یہ شخص اسلام کی عداوت اور اس کے متعلق بدزبانی میں اول نمبر والوں میں سے تھا۔حضرت مرزا صاحب کو اس کے فتنے کی اطلاع ہوئی تو آپ نے ایک اشتہار کے ذریعہ اس کو مباہلہ کے لئے بلایا اور یہ اشتہار امریکہ و یورپ کے بہت سے اخباروں میں چھپوا دیا۔چنانچہ ان اخبارات کی فہرست حقیقۃ الوحی اور ریویو آف ریلیجز میں شائع ہو چکی ہے۔ڈوئی اس قدر مغرور تھا کہ اس نے حضرت مرزا صاحب کی اس دعوت مباہلہ کا جواب تک نہ دیا بلکہ صرف اپنے اخبار میں یہ چند سطریں شائع کر دیں کہ : - ہندوستان میں ایک بیوقوف محمد می صحیح ہے جو مجھے بار بار لکھتا ہے کہ یسوع مسیح کی قبر کشمیر میں ہے اور لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تو اس بات کا جواب کیوں نہیں دیتا اور نیز یہ کہ تو اس شخص کا جواب کیوں نہیں دیتا ( یعنی اس کی دعوتِ مبالہ کا ) مگر کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں ان مچھروں اور مکھیوں کا جواب دونگا۔اگر میں ان پر اپنا پاؤں رکھوں تو ان کو کچل کر مار ڈالوں۔پھر دوسرے پرچہ میں لکھتا ہے۔”میرا کام یہ ہے کہ میں مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب سے لوگوں کو جمع کروں اور مسیحیوں کو اس (اس سے ڈوئی کا آباد کیا ہوا شہر میحون مراد ہے ) شہر اور دوسرے شہروں میں آباد کروں یہاں تک کہ وہ دن آجائے کہ محمدی مذہب دنیا سے مٹادیا جائے۔اے خدا ہمیں وہ وقت دکھلا۔اس پر حضرت مرزا صاحب نے دوبارہ ایک اشتہار کے ذریعہ سے ڈوئی کو مخاطب کیا اور لکھا کہ تم نے میری دعوت 128