تبلیغِ ہدایت — Page 122
ہوئے بلکہ اُن کی خدائی بھی دفن ہو گئی اور مسیحیت کا سارا طلسم ڈھوآں ہو کر اڑنے لگا۔(دیکھو مسیح ہندوستان میں “ اور ” راز حقیقت اور قبر مسیح وغیرہ۔) پھر حضرت مرزا صاحب نے روحانی مقابلہ کے لئے بھی عیسائیوں کو اپنے سامنے بلایا اور بار بار چیلنج دیا کہ تم ان لوگوں میں سے ہونے کا دعوی کرتے ہو جو ایک رائی کے دانہ کے برابر ایمان رکھنے پر بھی وہ کچھ دکھا سکتے ہیں۔جو تمہارے خیال میں مسیح نے دکھایا تھا تو اب میرے مقابل پر نکلو اور اپنے ایمان کا ثبوت دو۔میں مسیح کی خدائی کا منکر ہوں۔ہاں بیشک وہ خدا کے نبیوں میں سے ایک نبی تھا۔مگر مجھے خدا نے اُس سے برتر مرتبہ عطا کیا ہے اور میں کفارے کے خونی عقیدہ کو جھوٹا سمجھتا ہوں۔اب اگر تم میں سے کسی کو ہمت ہے کہ روحانی کمالات میں میرا مقابلہ کر سکے تو وہ سامنے آئے اور دُعا اور افاضۂ روحانی میں میرے ساتھ مقابلہ کر لے اور پھر دیکھے کہ خدا کس کے ساتھ ہے آپ نے لکھا کہ قرعہ اندازی کے ساتھ کچھ خطرناک مریض مجھے دید و اور کچھ تم لے لو۔میں اپنے مریضوں کے لئے دُعا کروں گا۔اور اپنے خدا سے اُن کی شفایابی چاہوں گا اور تم اپنے مریضوں کے لئے اپنے مسیح سے شفا کے طالب ہونا اور اپنے علوم ظاہری کی مدد سے ان کا علاج بھی کرنا اور پھر ہم دیکھیں گے کہ کس کا خدا غالب ہے اور کون فتح پاتا ہے اور کون ذلیل ہوتا ہے آپ نے اس چیلنج کو بار بار دہرایا۔اور اس کے متعلق کثرت کے ساتھ اشتہارات دیئے اور پادریوں کو غیرت دلا دلا کر ابھارا اور ان کے بڑے بڑے بشپوں کو بھی دعوتی مراسلے بھیجے مگر کسی کو سامنے آنے کی جرات نہ ہوئی۔(دیکھو تبلیغ رسالت ور یویو آف ریلیجنز وحقیقۃ الوحی وغیرہ) کیا اس سے بڑھ کر کوئی روحانی موت ہو سکتی ہے جو اس فرقہ کو نصیب ہوئی ؟ پھر آپ نے اس عظیم الشان مباحثہ کے بعد جو ۱۸۹۳ء میں امرتسر میں عیسائیوں کے ساتھ ہوا تھا اور جو جنگ مقدس کے نام سے چھپ چکا ہے عیسائیوں کے مناظر ڈپٹی عبد اللہ آتھم کے متعلق پیشگوئی فرمائی کہ چونکہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کہا ہے اور مجھ پر اور اسلام پر جنسی اڑائی ہے اور وہ ایک سراسر باطل عقیدہ کا حامی ہے اس لئے اگر اُس نے حق کی طرف رجوع نہ کیا تو وہ پندرہ ماہ میں بسزائے موت ہاویہ کے اندر گرایا جاوے گا۔(دیکھو جنگ مقدس کا 122