تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 87 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 87

یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اے مسلمانو! تم ضرور بالضرور اپنے سے پہلے گذری ہوئی اُمتوں کے قدم بقدم چلو گے بالشت بہ بالشت اور دست بدست۔حتی کہ اگر کوئی سابقہ قوم گوہ یعنی سوسمار کے سوارخ میں بھی داخل ہوئی ہوگی تو تم بھی ایسا ہی کرو گے عرض کیا گیا یا رسول اللہ ! کیا پہلی اُمتوں سے یہود و نصاریٰ مراد ہیں؟ آپ نے فرمایا۔وہ نہیں تو اور کون ؟ اور ایک روایت میں آتا ہے کہ صلحاء گذر جائیں گے اور صرف بھوسہ رہ جائے گا۔جس طرح جو یا کھجور کا بھوسہ ہوتا ہے اور اللہ ایسے لوگوں کی بالکل پرواہ نہ کرے گا اور ایک روایت یوں آتی ہے کہ قریب ہے کہ تمہارے خلاف دوسری اُمتیں ایک دوسرے کو مدد کے لئے بلائیں جس طرح کھانے والا اپنے برتن کی طرف دوسروں کو دعوت دیتا ہے یعنی تم دوسروں کی خوراک بن جاؤ گے اور وہ ایک دوسرے کو تم پر دعوت دیں گے۔ایک شخص نے عرض کیا۔یا رسول اللہ! کیا ہم اس دن تھوڑے ہوں گے؟ اور اس قلت کی وجہ سے ہمارا یہ حال ہوگا ؟ فرمایا۔نہیں بلکہ تم اس دن کثیر ہو گے لیکن تم اس جھاگ کی طرح ہو گے جو کہ سیلاب کے بعد ایک برساتی نالے کے کنارے پر پائی جاتی ہے۔یعنی نہایت درجہ رڈی اور غیر مفید حالت میں ہو گے اور اللہ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رُعب مٹا دے گا اور تمہارے دلوں میں کمزوری ڈال دے گا۔عرض کیا گیا کہ کمزوری سے کیا مراد ہے؟ فرمایا۔دنیا کی محبت اور موت کا ڈر۔یعنی بُزدلی کی وجہ سے نیک کاموں سے رُک جانا۔اور ایک روایت میں یہ ہے کہ میرے بعد ایک زمانہ میں ایسے علماء پیدا ہوں گے جو میری ہدایت سے ہدایت نہ پائیں گے اور میری سنت پر کار بند نہ ہوں گے اور میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن کے دل شیطانوں کے دل ہوں گے گوجسم انسانوں کے سے ہوں گے اور ایک روایت اس طرح پر آئی ہے کہ میری امت کے علماء کی یہ حالت ہوگی کہ وہ آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے اور ایک روایت میں یوں ہے کہ علم اُٹھ جائے گا اور جہالت کی کثرت ہوگی اور زنا اور شراب خوری کی بھی کثرت ہوگی اور ایک 87