تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 83 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 83

ہیں ان کا ایک فردِ واحد میں پایا جانا محالات عقلی میں سے ہے۔(۳) دجال کی کیفیت جن الفاظ میں بیان کی گئی ہے اس پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس پیشگوئی میں مجاز اور استعارہ کا دخل ہے ورنہ نعوذ باللہ دجال میں بعض خدائی طاقتیں ماننی پڑتی ہیں۔(۴) دجال کی تمام کیفیات عملاً عیسائی اقوام میں پائی جاتی ہیں۔(۵) دجال کا فتنہ سب سے بڑا فتنہ بتایا گیا ہے اور ادھر ہم دیکھتے ہیں کہ مسیحی اقوام کے مادیت اور فلسفہ نے جو فتنہ آج کل بر پا کر رکھا ہے ایسا فتنہ دین و ایمان کے لئے نہ پہلے ہوا اور نہ آئندہ خیال میں آسکتا ہے اور سورہ فاتحہ کے مطالعہ سے بھی سب سے بڑا فتنہ عیسائیت کا فتنہ ہی ثابت ہوتا ہے۔(۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن صیاد کے متعلق جو مدینہ کا ایک یہودی لڑکا تھا اور بعد میں مسلمان ہو گیا دجال ہونے کا شبہ کیا تھا بلکہ حضرت عمرؓ نے آپ کے سامنے اس بات پر قسم کھائی تھی کہ یہی الله جال ہے اور آپ نے اس کی تردید نہیں فرمائی۔(ملاحظہ ہو مشکوۃ باب قصہ ابن صیاد ) حالانکہ ابن صیاد میں دجال کی علامات ماثورہ میں سے اکثر بالکل مفقود تھیں۔جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام بھی اس پیشگوئی کو مجازی رنگ میں سمجھتے تھے اور تمام علامات کا ظاہری اور جسمانی طور پر پایا جانا ہر گز ضروری نہ سمجھتے تھے۔(۷) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دجال کے فتنے سے بچنے کے لئے سورہ کہف کی ابتدائی آیات مطالعہ کرنی چاہئیں۔(دیکھو مشکوۃ ) اب ہم سورہ مذکورہ کی ابتدائی آیات پر نظر ڈالتے ہیں تو وہاں سوائے عیسائیت کے باطل خیالات کے رڈ کے اور کوئی مضمون نہیں پاتے۔چنانچہ سورۃ کہف کی ابتدائی آیات یہ ہیں :- الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَبَ وَلَمْ يَجْعَل لَّهُ عِوَجًا فَمَا لِيُنْذِرَ بَأْسًا شَدِيدًا مِنْ لَّدُنْهُ وَيُبَيِّرَ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصّلِحَتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا حَسَنًا مَّاكِثِينَ فِيهِ أَبَدًا وَيُنْذِرَ الَّذِينَ 83