تبلیغِ ہدایت — Page 74
کے متعلق بھی استعمال کیا جاتا ہے۔اس لحاظ سے خلافتِ راشدہ کے زمانہ کے فتنے بھی ساعت تھے حضرت امام حسین کی شہادت بھی ایک ساعت تھی۔بنوامیہ کی تباہی بھی ایک ساعت تھی۔بغداد اور بنوعباس کی تباہی بھی ایک بڑی قیامت اور ساعت تھی۔سپین سے مسلمانوں کا اخراج بھی ایک ساعت تھی۔اور اسی طرح اسلامی تاریخ کے سب بڑے بڑے تغیرات اور انقلابات ساعات ہیں اور احادیث نبوی میں جو ساعت کی علامات بتائی گئی ہیں وہ سب قیامت گبری کے متعلق نہیں ہیں بلکہ بعض ان درمیانی ساعتوں کے متعلق بھی ہیں۔یعنی کوئی حدیث کسی ساعت کے متعلق ہے تو کوئی کسی اور کے متعلق۔اور بعض علامات ساعت گبری کے متعلق بھی ہیں۔یہ ایک ایسی بین حقیقت ہے کہ جو شخص ذرا بھی تدبر سے کام لے اور تاریخ اسلامی کو زیر نظر رکھے وہ اس کا انکار نہیں کرسکتا۔کیونکہ بعض علامات نے درمیانی ساعتوں پر ظاہر ہو کر اس حقیقت پر عملاً مہر تصدیق ثبت کر دی ہے اندریں حالات ہمارا سب سے پہلا فرض یہ ہونا چاہیئے کہ ہم غور و تدبر کر کے اُن علامات کو تلاش کریں جو مسیح و مہدی کے زمانہ یا وجود کی مخصوص علامات ہیں۔مسیح و مہدی کی دسن موٹی علامات سو جاننا چاہئے کہ قرآن شریف اور احادیث سے جوموٹی موٹی علامات مسیح موعود و مہدی معہود کی ثابت ہوتی ہیں اور جن سے غالباً ہر مسلمان کم و بیش واقف ہے یہ ہیں: - (۱) مسیح موعود کا زمانہ ایسا ہو گا جس میں آمد و رفت کے وسائل بہت ترقی کر جائیں گے اور گویا ساری دنیا ایک ملک کا رنگ اختیار کر لے گی۔اور نئی نئی قسم کی سواریاں نکل آئیں گی اور اونٹ کی سواری معطل ہو جائے گی۔اور کتب اور رسالہ جات اور اخبارات وغیرہ کی اشاعت نہایت کثرت کے ساتھ ہوگی۔مادی علوم کی ترقی ہوگی اور کئی نئے اور مخفی علوم ظاہر ہو جائیں گے۔اور دریاؤں اور سمندروں کو پھاڑ پھاڑ کر نہریں بنائی جائیں گی اور وسائل آمد ورفت میں غیر معمولی ترقی ہوگی وغیرہ وغیرہ۔(۲) وہ زمانہ ایسا ہو گا کہ صلیبی مذہب اس میں بڑے زوروں پر ہوگا۔74