تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 62 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 62

ثابت ہوا کہ مہدی مسیح سے الگ شخصیت نہیں رکھتا بلکہ وہی ہے جسے صرف دو حیثیتوں کی وجہ سے دو نام دیدیئے گئے ہیں۔پھر اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ احادیث میں جو کام مسیح موعود کا بتایا گیا ہے قریباً وہی کام مہدی کا بتایا گیا ہے یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ مسیح اور مہدی ایک ہی ہیں۔علاوہ ازیں مسیح اور مہدی کے حلیے بھی احادیث میں ایک بتائے گئے ہیں ( مسند احمد بن حنبل )۔پس وہ دو کس طرح ہو سکتے ہیں؟ پھر حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ اگر ایک خلیفہ برحق موجود ہو اور اس وقت کوئی دوسرا شخص خلافت کا دعویٰ کرے تو اُسے قتل کر دو۔یعنی جنگ کی صورت ہو تو مقابلہ کر کے اُسے مار دو ورنہ اُسے مردوں کی طرح سمجھ کر اس سے بالکل قطع تعلق کر لو۔اب با وجود اس تعلیم کے دو خلیفوں کا وجود ایک وقت میں کس طرح مان لیا جاوے؟ اسلامی تعلیم کی رو سے ایک وقت میں ایک ہی امام ہوتا ہے اور باقی اس کے تابع ہوتے ہیں۔پس یہ بھی دلیل ہے۔اس بات کی کہ مسیح اور مہدی دو الگ الگ وجود نہیں ہونگے۔بلکہ یہ دو نام ایک ہی شخص کے ہیں جو آخری ایام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خلیفہ ہوگا۔یہاں تک تو ہم نے استدلالات سے کام لیا ہے، لیکن اب ہم ایک ایسی حدیث پیش کرتے ہیں جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صاف طور پر فر ما دیا ہے کہ مسیح اور مہدی ایک ہی شخص ہیں۔آپ فرماتے ہیں۔لامھدی الاعیسی (ابن ماجہ باب شده الزمان ) یعنی حضرت عیسی کے سوا اور کوئی مہدی موعود نہیں ہے۔دیکھو کیسے صاف اور روشن الفاظ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جھگڑے کا فیصلہ فرما دیا ہے کہ مسیح اور مہدی الگ الگ نہیں ہیں بلکہ مسیح موعود کے سوا اور کوئی مہدی موعود ہے ہی نہیں۔جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لاتا ہے وہ تو ان الفاظ کے سامنے سر جھکا دے گا، لیکن جس کے دل میں کچھی ہے وہ ہزاروں حجتیں نکالے گا۔مگر ہمیں اس سے کام نہیں۔ہمارے مخاطب صرف وہ لوگ ہیں جو روحانی مکتب میں یہ سبق سیکھ چکے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اپنا سر رکھ دینا عین سعادت ہے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک اور حدیث بھی ہے جو صاف الفاظ میں مسیح 62