تبلیغِ ہدایت — Page 243
بعد نبوت میں سے صرف مبشرات ومنذرات کا حصہ باقی رہ گیا ہے تو اس سے صرف یہ مراد ہے کہ آب شریعت والی نبوت کا دروازہ بند ہو گیا ہے ہاں مبشرات ومنذرات والی نبوت جاری ہے جس سے حصہ تو حسب استعداد بھی پاتے ہیں مگر حصہ وافر پانے والا نبی ہوتا ہے۔جس طرح ایک روپیہ کا مالک گولغوی طور پر مال رکھتا ہے مگر اصطلاحی طور پر مال دار نہیں کہلاسکتا لیکن لاکھ روپیہ کا مالک مالدار کہلاتا ہے۔علاوہ ازیں اس حدیث کے الفاظ بھی اس مفہوم کی تصدیق کر رہے ہیں کہ ایک قسم کی نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی جاری ہے کیونکہ آپ کے الفاظ یہ ہیں کہ لم یبق من النبوة الا المبشرات یعنی نبوت کی باقی اقسام تو آب بند ہیں مگر مبشرات ومنذرات والی نبوت اب بھی جاری ہے اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے ایک مجلس کے متعلق کہا جائے کہ سب آدمی جاچکے ہیں مگر ایک آدمی باقی ہے۔اب اس کا یہ مفہوم ہرگز نہیں ہوگا کہ جو آدمی باقی ہے وہ آدمی ہی نہیں ہے بلکہ کوئی اور چیز ہے۔بعینہ اسی طرح حدیث کا منشاء ہے کہ نبوت کی سب قسمیں بند ہو چکی ہیں مگر ایک قسم کی نبوت باقی ہے جو مبشرات ومنذرات سے تعلق رکھتی ہے۔وہوالمراد۔مسئلہ نبوت کے متعلق اجماع کا دعویٰ غلط ہے تیسری دلیل یہ دی جاتی ہے کہ امت محمدیہ نے اس بات پر اجماع کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا اور کہا جاتا ہے کہ چونکہ امت کا اجماع حجت ہے پس ثابت ہوا کہ اب نبوت کا دروازہ بند ہے مگر ہم کہتے ہیں کہ یہ بات بالکل غلط ہے کہ امت محمدیہ نے اس مسئلہ پر اجماع کیا ہے۔چنانچہ حضرت عائشہ کا عقیدہ اوپر بیان ہو چکا ہے کہ آپ صرف شریعت والی نبوت کا دروازہ بجھتی تھیں اور غیر تشریعی نبی کا آنا آیت خاتم المنتہین اور حدیث لا نبی بعدی کے خلاف نہیں سمجھتی تھیں۔اسی طرح بعض اور صحابہ مثلاً حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے متعلق بھی روایت آتی ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد غیر تشریعی نبی کے آنے کو جائز سمجھتے تھے۔( در منشور و ابن الانباری وابن ابی شیبہ ) اور باقی کسی اور صحابی کا 243