تبلیغِ ہدایت — Page 199
کے متعلق لکھا ہے تو صاف ظاہر ہو جائے گا کہ جو کچھ ہے وہ صرف زبان ہی پر ہے دل میں کچھ بھی نہیں۔چونکہ مسلمانوں کے گھر پیدا ہو گئے ہیں اس لئے اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں اور اسی وجہ سے بعض اوقات مذہبی غیرت بھی دکھاتے ہیں۔مگر یہ غیرت صرف قومی رنگ میں ہوتی ہے نہ کہ مذہبی رنگ میں۔اس زمانہ میں قوم کے لفظ نے بھی مذہب کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔اب گو یا اسلام کسی مذہب کا نام نہیں بلکہ اس حالت اجتماعی کا نام ہے جو مسلمان کہلانے والوں میں پائی جاتی ہے اور یہ ایک خطر ناک نظریہ ہے جو مسلمانوں کو ہر لحظہ نیچے گرا تا جارہا ہے۔اسی لئے ہم احمد سہی لوگ اپنے افراد میں اور خصوصاً اپنے بچوں میں قوم کا لفظ عموماً نہیں آنے دیتے۔یعنی قومی خدمت۔قومی قربانی۔قومی کام وغیرہ الفاظ کے استعمال کرنے سے حتی الوسع روکتے ہیں اور ان کی جگہ دینی خدمت یا جماعت کی خدمت یا اسلام کی خدمت یا جماعت کا کام یا دینی کام یا دین کے لئے قربانی وغیر ہ الفاظ استعمال کرتے اور استعمال کئے جانے کی تاکید کرتے ہیں تا ہمارے خیالات کا مرکزی نقطہ قوم نہ ہو جسے صرف نام سے تعلق ہوتا ہے بلکہ دین و مذہب ہو جسے حقیقت سے تعلق ہے جو شخص اس حقیقت سے منحرف ہوگا خواہ وہ نام ہمارے ساتھ ہو اور قومی رنگ میں ہمارا ایک فرد ہو۔مگر وہ ہم سے نہ رہے گا کیونکہ جو رشتہ اُسے اور ہمیں باہم باندھ رہا تھا وہ منقطع ہو گیا اور صرف نام رہ گیا۔مسلمان جب سے اس نکتہ کو بھولے ہیں اُن کا قدم ہر لحظہ تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے مگر افسوس ہے کہ پھر بھی وہ آنکھیں نہیں کھولتے۔ایمان کی علامتیں اب میں یہ بتاتا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب نے اس کھوئے ہوئے ایمان کو واقعی دنیا میں قائم کیا ہے۔ظاہر ہے کہ ایمان اُن چیزوں میں سے نہیں ہے جو مادی ہیں اور ظاہری حواس سے محسوس ہوسکتی ہیں۔بلکہ ایمان ایک قلبی کیفیت کا نام ہے جس کا علم اس کے آثار کے مشاہدہ سے ہوتا ہے۔مثلاً محبت کا جذبہ ہے اب کوئی شخص اس جذبہ کو محسوس نہیں کر سکتا، لیکن جب اس جذبہ کے آثار ظاہر ہوتے ہیں تو پھر محبت پہچانی جاتی ہے۔مثلاً زید کو خالد سے محبت ہے اب جب بکر کوزید کی 199