تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 193 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 193

یعنی بدوی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔مگر اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو ان سے کہہ دے کہ ایمان کا دعویٰ مت کرو۔ہاں یہ بے شک کہو کہ ہم نے اسلام قبول کر لیا ہے مگر ایمان کے مدعی نہ بنو کیونکہ ایمان تو ابھی تک تمہارے دلوں میں داخل بھی نہیں ہوا۔تو اب یہ سوال ہوتا ہے کہ ایمان کس چیز کا نام ہے؟ سو جاننا چاہئے کہ ایمان اس حالت قلبی کا نام ہے کہ جب تک انسان صفات باری تعالیٰ اور نشان ہائے قدرت الہی کا مشاہدہ کر کے خدا کے متعلق اس مرتبہ پر قائم ہو جاتا ہے کہ جو انسان کو اس کے مادی محسوسات کے متعلق ان کے مشاہدہ سے حاصل ہوتا ہے۔مثلاً انسان اپنے باپ کو دیکھتا ہے اور پہچان لیتا ہے کہ یہ میرا باپ ہے۔بیٹے کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ میرا بیٹا ہے۔سورج کو دیکھتا ہے اور جانتا ہے کہ یہ سورج ہے اسی طرح وہ خدا پر بھی ایمان لے آئے۔یعنی خدا کی ہستی کے متعلق اسے اتنا یقین پیدا ہو جائے جتنا کہ اُسے اپنے باپ اور بیٹے اور سورج وغیرہ کے متعلق حاصل ہے اور اگر خدا کے متعلق اس کا ایمان اس مرتبہ سے گرا ہوا ہے تو دراصل یہ ایمان نہیں بلکہ ایک شک کا مقام ہے جسے وہ محض رسمی طور پر ایمان سمجھ رہا ہوتا ہے۔اسی لئے حدیث میں آتا ہے کہ لایزنی الزاني حين يزني وهو مومن ولا يسرق حين يسرق وهو مومن ( بخاری کتاب الحدود ) یعنی کوئی زانی اس حالت میں زنا نہیں کرتا کہ وہ مومن ہو اور کوئی چور اس حالت میں چوری نہیں کرتا کہ وہ مومن ہو۔“ اس سے ظاہر ہے کہ حقیقی ایمان اس حالت کا نام ہے کہ جس میں انسان گناہ سے محفوظ ہوجاتا ہے یعنی ایمان کی حالت میں گناہ کا ارتکاب ناممکن ہے سیاسی لئے حضرت مرزا صاحب نے گناہ کے فلسفہ میں اس بات پر بہت زور دیا ہے کہ گناہ عدم یقین سے پیدا ہوتا لے اس جگہ یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حقیقی ایمان کے لئے گناہ سے محفوظ ہونا ضروری ہے تو انبیاء کے بغیر کوئی شخص بھی مومن نہیں رہتا کیونکہ گناہ سے حقیقی طور پر محفوظ صرف نبیوں کی جماعت ہے اور دوسری طرف حدیث میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں کہ ان زنى وإن سرق یعنی ایک مؤمن خدا کی بخشش حاصل کر سکتا ہے باوجود اس کے کہ وہ بھی کبھی لغزش کھا کر زنا یا چوری وغیرہ کے گناہ کا مرتکب بھی ہو جائے۔ان باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک مومن بھی گناہ کا مرتکب ہو سکتا ہے اور یہ دونوں باتیں متضاد ہیں۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ درست ہے کہ ایک سچا مومن بھی کبھی لغزش کھا کر گناہ میں مبتلاء ہوسکتا ہے مگر پھر بھی وہ 193