تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 173 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 173

تقریر کے لئے مقرر تھے گذر گئے اور مضمون ابھی بہت باقی تھا تو لوگوں نے متفقہ آواز سے کہا کہ اس مضمون کے لئے جلسہ کا ایک دن اور بڑھایا جائے چنانچہ ۲۹؍ دسمبر کا دن زیادہ کیا گیا مگر پھر بھی جب تقریر کا معینہ وقت گذر گیا اور تقریر ختم نہ ہوئی تو سامعین نے با اتفاق درخواست کی کہ اسے اور وقت دیا جائے کیونکہ ہم اسے آخر تک سننا چاہتے ہیں۔چنانچہ پروگرام کی حدود کو توڑ کر اسے اور وقت دیا گیا اور اس طرح لوگوں کی تحسین و آفرین کے نعروں میں یہ تقریر ختم ہوئی اور ایک معزز ہندو کی زبان سے جو اس جلسہ کے صدر تھے بے اختیار نکلا کہ یہ مضمون تمام مضمونوں سے بالا رہا۔“ اور لاہور کے مشہور انگریزی اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ نے بھی جس کے مالک اور ایڈیٹر اس زمانہ میں سب عیسائی انگریز ہوتے تھے یہی رائے ظاہر کی کہ مرزا صاحب قادیانی کا مضمون سب سے بالا رہا اور شائد ہیں کے قریب ایسے اردو اخبار بھی ہونگے جنہوں نے اس مضمون کے کامیاب اور غالب رہنے کی شہادت دی اور اس مجمع میں بجزر سخت متعصب لوگوں کے تمام لوگوں کی زبان پر یہی تھا کہ یہی مضمون فتح یاب ہوا اور آج تک اس تقریر کے سننے والے یہی شہادت دیتے ہیں کہ اس دن یہ مضمون سب پر غالب رہا تھا۔چنانچہ مثال کے طور پر سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور کی رائے کا ترجمہ درج ذیل کیا جاتا ہے:- جلسہ اعظم مذاہب لا ہور جو ۲۶ - ۲۷-۲۸ / دسمبر ۱۸۹۶ء کو اسلامیہ کالج لاہور کے ہال میں منعقد ہوا اس میں مختلف مذاہب کے نمائندوں نے مندرجہ ذیل پانچ سوالوں کا جواب دیا: - ( آگے پانچوں سوال نقل کئے گئے ہیں ) لیکن سب مضمونوں سے زیادہ توجہ اور زیادہ دلچسپی سے مرزا غلام احمد قادیانی کا مضمون سنا گیا جو اسلام کے بڑے بھارے موئید اور عالم ہیں۔اس لیکچر کو سننے کے لئے دُور ونزدیک سے ہر مذہب وملت کے لوگ بڑی کثرت کے ساتھ جمع تھے چونکہ مرزا صاحب خود جلسہ میں شامل نہیں ہو سکے اس لئے مضمون اُن کے ایک قابل اور فصیح شاگردمولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی نے پڑھا۔۲۷ / تاریخ والا مضمون قریباً ساڑھے تین گھنٹے تک پڑھا گیا اور گویا ابھی پہلا سوال ہی ختم ہوا تھا لوگوں نے اس مضمون کو ایک وجد اور محویت کے عالم میں سنا اور 173