تبلیغِ ہدایت — Page 98
بال پشم کی طرح نرم اور سیدھے اور لمبے تھے اور سیدھے بھی ایسے کہ ایک ایک بال ریشم کی تارکی طرح الگ الگ نظر آتا تھا۔پھر آپ دوز رد چادروں میں لیٹے ہوئے مبعوث ہوئے تھے۔یعنی دو بیماریاں آپ کو لاحق تھیں اور دعوئی مسیحیت سے لیکر یومِ وصال تک لاحق رہیں۔چنانچہ حضرت مرز اصاحب فرماتے ہیں :- دو مرض میرے لاحق حال ہیں۔ایک بدن کے اوپر کے حصہ میں اور دوسری بدن کے نیچے کے حصہ میں اوپر کے حصہ میں دورانِ سر ہے اور نیچے کے حصہ میں کثرتِ پیشاب ہے اور یہ دونوں مرضیں اُسی زمانہ سے ہیں جس زمانہ سے میں نے اپنا دعویٰ مامور من اللہ ہونے کا شائع کیا ہے۔میں نے ان کے لئے دُعائیں بھی کیں۔مگر منع میں جواب پایا۔(حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۰۷) یہ بات کہ زرد کپڑے سے عالم رویا میں بیماری مراد ہوتی ہے ایک ایسا بین امر ہے کہ کسی تشریح کی ضرورت نہیں۔( مثلاً دیکھو تعطیر الا نام جلد ۲ صفحہ ۴۱) حدیث کے باقی ماندہ امور که مسیح موعود کے دم سے کافر مریں گے اور سر سے قطرے اور موتی جھڑیں گے۔وغیرہ اس کے متعلق ہم علامات کی بحث کے اختتام پر ایک نوٹ درج کریں گے کیونکہ یہ باتیں حلیہ کا حصہ نہیں بلکہ عام علامات کا حصہ ہیں۔نزول مسیح کے متعلق ایک زبر دست پیشگوئی اب جبکہ حضرت مسیح ناصری کی وفات اور مسیح و مہدی کے نزول کی علامات کی بحث مکمل ہو چکی ہے اس لئے اگلی بحث ( یعنی دسویں علامت کا بیان ) شروع کرنے سے قبل حضرت مرزا صاحب کا ایک حوالہ درج کرنا ضروری ہے جس میں حضرت مرزا صاحب نے مسیح ناصری کی وفات اور نزول کے عقیدہ کے متعلق ایک زبر دست پیشگوئی فرمائی ہے آپ فرماتے ہیں :- ”اے تمام لو گوئن رکھو کہ یہ اُس خدا کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا اور حجت اور برہان کی رو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے 98