تبلیغِ ہدایت — Page 81
یہ تمام معنے لغت کی نہایت مستند اور مشہور کتاب تاج العروس میں درج ہیں۔پس ان معنوں کے لحاظ سے یہ دجال کے معنے ہوئے :- ایک کثیر التعداد جماعت جو تاجر پیشہ ہو اور اپنا تجارتی سامان دنیا میں اٹھائے پھرے اور جونہایت مالدار اور خزانوں والی ہو اور جو تمام دنیا کو اپنی سیر و سیاحت سے قطع کر رہی ہو اور ہر جگہ پہنچی ہوئی ہو اور گویا کوئی جگہ اس سے خالی نہ رہی ہو اور مذہباً وہ ایک نہایت جھوٹے عقیدہ پر قائم ہو“۔اب اس کیفیت کیساتھ اس کیفیت کو ملاؤ جو حدیث نبوی میں بیان ہوئی ہے اور جس کا خلاصہ او پر درج کیا گیا ہے تو فوراً بلا تامل طبیعت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ دجال سے مغربی ممالک کی مسیحی اقوام مراد ہیں جو اس زمانہ میں تمام روئے زمین پر چھا رہی ہیں اور جن میں تمام مذکورہ بالا حالات واضح طور پر پائے جاتے ہیں۔ان کا یک چشم ہونا ان کی مادیت ہے جس نے ان کے دین کی آنکھ کو بند کر رکھا ہے۔ہاں دنیا کی آنکھ خوب کھلی اور روشن ہے۔ان کی آنکھوں کے درمیان کافر کا لفظ لکھا ہونے سے ان کا بدیہی البطلان الوہیت مسیح کا عقیدہ مراد ہے جسے ہر سچا مومن خواہ وہ خواندہ ہو یا نا خواندہ پڑھ سکتا ہے اور ان کا زمین و آسمان میں تصرفات کرنا اور خزانے نکالنا اور زندہ کرنا اور مارنا وغیرہ سے ان کے علومِ جدیدہ اور سائنس وغیرہ کی طاقتوں اور سیاسی غلبہ کی طرف مجازی طور پر اشارہ ہے ورنہ از روئے حقیقت تو یہ امور سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں اور ان کو غیر اللہ کی طرف منسوب کرنا کفر ہے اور دقبال کے ساتھ جنت و دوزخ کا ہونا یہ ہے کہ جو شخص ان کے ساتھ ہو جاتا ہے اور ان کی بات مانتا ہے اور اُن کے مذہب کو اختیار کرتا ہے وہ ظاہراً ایک جنت میں داخل ہو جاتا ہے گو دراصل وہ دوزخ ہوتا ہے اور جو شخص اُن کے بدخیالات سے الگ رہتا ہے اس کو ظاہر ایک دوزخ برداشت کرنا پڑتا ہے گو در اصل وہ جنت ہوتی اور ان کے ساتھ روٹیوں کے پہاڑ اور پانی کی نہر کا ہونا تو ایک بین چیز ہے جس کی تشریح کی ضرورت نہیں اور دجال کے گدھے سے جس کے دو کانوں کے درمیان کا فاصلہ ستر گز ہے ظاہری گدھا مراد نہیں بلکہ اس سے ریل مراد ہے جو پرانے زمانے کے سواری والے گدھوں کی قائم مقام ہے اور گدھے کے کانوں سے مراد ڈرائیور 81