تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 80 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 80

کہ اس کے ساتھ ایک پہاڑ روٹیوں کا ہوگا اور ایک نہر پانی کی ہوگی اور ایک روایت میں ہے کہ دجال ایک چمکدار گدھے پر ظاہر ہوگا اور وہ گدھا ایسا ہوگا کہ اس کے دوکانوں کے درمیان ستر ہاتھ کا فاصلہ ہوگا۔“ یہ دجال کی کیفیت ہے جو میں نے مشکوۃ کی مختلف روایتوں سے بطور اختصار کے جمع کر کے اس جگہ درج کی ہے۔اب ہم کو دیکھنا یہ ہے کہ یہ دجال کون ہے؟ اور آیا وہ ظاہر ہو گیا ہے یا نہیں۔سب سے پہلے ہمیں دجال کے لفظ پر غور کرنا چاہئے تا معلوم ہو کہ عربی زبان میں اس لفظ کے کیا معنے ہیں۔سوجاننا چاہئے کہ عربی زبان میں دجال کا لفظ چھ معنوں پر مشتمل ہے:۔اوّل۔دجال کے معنے کذاب یعنی سخت جھوٹے کے ہیں۔دوسرے۔دجال کے معنے ڈھانپ لینے والی چیز کے ہیں۔کیونکہ عربی میں کہتے ہیں دجل البعير یعنی اس نے اونٹ کے جسم پر بناء کو اس طرح ملا کہ کوئی جگہ خالی نہ رہی۔چنانچہ تاج العروس میں لکھا ہے کہ دجال اسی روٹ سے نکلا ہے لانه يعم الارض كما ان الهناء يعمّ الجسد کیونکہ وہ زمین کو اسی طرح ڈھانپ لے گا جس طرح بناء سارے بدن کو ڈھانپ لیتی ہے۔تیسرے۔دجال کے معنے زمین میں سیر و سیاحت کرنے والے کے ہیں چنانچہ کہتے ہیں دجل الرجل اذا قطع نواحي الارض سيراً۔یعنی دجل الرجل کے الفاظ اس وقت استعمال کرتے ہیں جب کسی نے تمام روئے زمین کو اپنی سیر وسیاحت سے قطع کر لیا ہو۔چوتھے۔دجال کے معنے بڑے مالدار اور خزانوں والے کے ہیں کیونکہ دجال سونے کو بھی کہتے ہیں۔پانچویں۔دجال ایک بڑے گروہ کو بھی کہتے ہیں التي تغطى الارض بكثرة اهلها۔جو اپنے افراد کی کثرت سے روئے زمین کو ڈھانک لے۔چھٹے۔دجال اس گروہ کو کہتے ہیں التي تحمل المتاع التجارۃ جو تجارت کے اموال اُٹھائے پھرے۔(دیکھو تاج العروس وغیرہ) 80