تبلیغِ ہدایت — Page 57
کام کرے گا۔غرض مہدی کے متعلق قریباً ہر ایک بات میں اختلاف ہے اور پھر لطف یہ کہ مختلف گروہ اپنے دعوے کی تائید میں احادیث ہی پیش کرتے ہیں ( دیکھو مج الکرامہ مصنفہ نواب صدیق حسن خان )۔پس ایسی حالت میں مہدی کے متعلق جو احادیث وارد ہوئی ہیں۔ان تمام کو صحیح نہیں مانا جا سکتا۔یہی وجہ ہے کہ امام بخاری اور امام مسلم نے اپنی تصحیحین میں مہدی کے متعلق کوئی باب نہیں باندھا۔کیونکہ انہوں نے ان احادیث میں سے کسی کو بھی قابل اعتبار نہیں سمجھا۔اسی طرح بعض بعد میں آنے والے علماء نے بھی مہدی کے متعلق جملہ احادیث کو ضعیف قرار دیا ہے اور صاف لکھا ہے کہ مہدی کے متعلق جتنی روایات ہیں اُن میں سے کوئی روایت بھی جرح قدح سے خالی نہیں۔(دیکھو نجم الکرامہ ) آب طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس اختلاف کی وجہ کیا ہے؟ سو جہاں تک ہم نے سوچا ہے اس کی کچھ وجہ تو یہ ہے کہ گو ایک مہدی خاص طور پر موعود ہے مگر دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عمومی رنگ میں کئی مہدیوں کی خبر دی تھی جنہوں نے مختلف وقتوں میں مختلف حالات کے ماتحت ظاہر ہونا تھا اس لئے ان روایات میں اختلاف کا ہونا ضروری تھا صرف غلطی یہ ہوئی کہ عوام الناس ان روایات کو ایک ہی شخص کے متعلق سمجھنے لگ گئے۔حالانکہ وہ مختلف لوگوں کے متعلق تھیں۔علاوہ ازیں یہ بھی بالکل سچ ہے اور ہمارا مشاہدہ اس پر گواہ ہے کہ ہر ایک قوم اور فرقہ کو یہ خیال ہوتا ہے کہ تمام خیر اپنی ہی طرف منسوب کر لے۔پس جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیشگوئی بیان فرمائی کہ میری امت میں سے ایک مہدی پیدا ہوگا تو بعد میں سب قبیلوں اور فرقوں کو یہ خواہش پیدا ہوئی کہ موعود مہدی ہم میں سے ہی پیدا ہو اور چونکہ سب لوگ متقی اور خدا ترس نہیں ہوا کرتے بعض نے ایسی حدیثیں گھڑ لیں جن سے یہ ظاہر ہو کہ مہدی انہی کی قوم سے ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ مہدی کے متعلق احادیث میں اس قدر گڑ بڑ واقع ہوئی ہے، لیکن وہ احادیث جو مہدی کو کسی خاص قوم سے نہیں بتاتیں بلکہ صرف یہ بتاتی ہیں کہ وہ امت محمدیہ میں سے ایک فرد ہے وہ ضرور اس قابل ہیں کہ انہیں قبول کیا جاوے کیونکہ انہیں وضعی قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں۔کیونکہ مہدی کے متعلق کسی کو کیا ضرورت تھی کہ وہ یہ حدیث بتاتا کہ مہدی امت محمدیہ سے ایک فرد ہو گا۔ہاں بے 57